The news is by your side.

Advertisement

نیب نے پولیٹیکل انجینئرنگ میں مدد کی: چیئرمین پی اے سی

اسلام آباد: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں چیئرمین نیب کی پیشی کے موقع پر کمیٹی کے چیئرمین رانا تنویر نے کہا کہ نیب کا پرائم فنکشن لوٹی گئی رقم کی ریکوری تھا، نیب نے پولیٹیکل انجینئرنگ میں مدد کی ہے، تاہم چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب کی وابستگی صرف پاکستان کے ساتھ ہے، پولیٹیکل انجینئرنگ کا لفظ نیب میں ہے ہی نہیں۔

تفصیلات کے مطابق جمعرات کو قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں پیش ہوئے، جہاں ان سے سخت سوالات کیے گئے۔

چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی چوہدری تنویر نے نیب حکام سے سوال کیا نیب نے جو رقم ریکور کی ہے اس میں تضاد کیوں ہے، کمیٹی میں جو ریکوری دکھائی گئی میڈیا میں مختلف تھی، پریس میں 820 ارب رپورٹ ہوا، یہاں 588 دکھا رہے ہیں، ہمیں بتائیں کہ پبلک فنڈز آفس ہولڈرز کی کرپشن میں کتنی ریکوری ہوئی؟

چیئرمین نیب نے اس پر جواب دیتے ہوئے کمیٹی سے استفسار کیا کہ آپ کے ذہن میں لوٹی گئی رقم کا کیا تصور ہے؟ ہم تو مضاربہ اسکینڈل اور ہاؤسنگ اسکیم کو بھی کرپشن سمجھتے ہیں۔

نیب حکام نے بتایا کہ 444 کیسز میں پلی بارگین ہوئی، پلی بارگین کی منظوری نیب نہیں عدالت دیتی ہے۔ کمیٹی نے پوچھا کہ کوئی افسر پلی بارگین کرتا ہے پھر وہ ڈیوٹی پر چلا جاتا ہے تو اسے کیسے دیکھتے ہیں؟ چیئرمین نیب نے کہا 99 فیصد لوگ واپس ڈیوٹی پر نہیں گئے۔

چیئرمین نیب نے کہا نیب ہدایت کی صوبائی حکومت یا چیف سیکریٹری تعمیل نہ کرے تو ہم کچھ نہیں کر سکتے، رضاکارانہ واپسی اور پلی بارگین کے کیسز میں فرق ہے، رضاکارانہ واپسی میں کسی کو نوکری سے نہیں نکالا جا سکتا تھا، 2016 میں سپریم کورٹ نے رضاکاروانہ واپسی کو روک دیا تھا۔

چیئرمین نیب کے مطابق ہاؤسنگ اسکیم، چھوٹی اسکیموں کے فراڈ میں ایک لاکھ 77 ہزار افراد کو رقوم واپس دلوائی گئیں، ایسے فراڈز میں 25 ارب سے زائد کی ریکوری ہوئی جو عوام کا پیسہ تھا انھیں دیا، ایک ہاؤسنگ سوسائٹی سے بغیر کمپرومائز 5 ارب وصولی کی گئی، ایک اسکیم میں تو میرے بھی 45 لاکھ ڈوبے۔

چیئرمین نیب نے کہا ہم کوشش کرتے ہیں ریکوری کریں، اتنے کام کی تھوڑی ستائش کر دیں، چیئرمین پی اے سی نے جواب میں کہا ہم ستائش کرتے ہیں، چیئرمین نیب نے کہا میڈیا کے سامنے ستائش کر دیں، کمیٹی نے کہا آپ کے اچھے کام مانتے ہیں، اب آپ کی تنخواہیں بڑھا دیں۔

کمیٹی چیئرمین نے کہا کہ نیب نے پولیٹیکل انجینئرنگ میں مدد کی ہے، نیب چیئرمین نے جواب دیا ایک بھی کیس بتا دیں پھر بات کریں گے، آپ سے آپ کے چیمبر میں ملوں گا، کمیٹی چیئرمین رانا تنویر نے کہا نیب نے احتساب مخصوص زاویے کے ساتھ کیا اس پر بات کریں گے، تاہم چیئرمین نیب نے کہا نیب کے بارے میں غلط تاثرات بنائے گئے۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا نیب قوانین میں پارلیمنٹ ترامیم کرے اور انھیں بہتر کرے اور ادارے کو مستحکم کریں، ترامیم کسی کو فائدہ پہنچانے کے لیے نہیں ہونی چاہیئں، براڈ شیٹ سمیت ہر معاملے پر کمیٹی کو وضاحت دیں گے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اجلاس کے بعد چیئرمین نیب نے میڈیا سے گفتگو میں کہا نیب کے بارے میں اراکین پارلیمنٹ کو تفصیلی بریفنگ دوں گا، یہ بھول جائیں نیب کی کسی کےساتھ کوئی وابستگی ہوگی، نیب کی وابستگی صرف پاکستان کے ساتھ ہے۔

انھوں نے کہا پولیٹیکل انجینئرنگ کالفظ نیب میں ہے ہی نہیں، شاہد خاقان سابق وزیر اعظم اور میرے لیے قابل احترام ہیں، ان کے بارے میں بات نہ کریں۔ جب سوال کیا گیا کہ عمران خان چلے گئے کیا آپ عہدے سے مستعفی ہوں گے؟ اس پر چیئرمین نیب نے کہا آفس میں آئیں جواب دوں گا، جیسے آپ کہیں گے کرلیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں