The news is by your side.

Advertisement

نوازشریف اورمریم نواز کو لاہور سے بذریعہ ہیلی کاپٹر اڈیالہ منتقل کرنے کا فیصلہ

راولپنڈی: نیب نے ایون فیلڈ میں‌ سزا پانے والے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف اور ان کی صاحب زادی مریم نواز کی گرفتاری کے لیے حکمت عملی تیار کر لی.

تفصیلات کے مطابق قومی احتساب بیورو نے نوازشریف اورمریم نواز کو لاہور ائیرپورٹ سے بذریعہ ہیلی کاپٹر اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اس ضمن میں نیب ہیڈ کوارٹرمیں ملزمان کی گرفتاری سے متعلق اہم اجلاس ہوا، جس میں‌ نوازشریف اور مریم نواز کی گرفتاری کے لئے چار ٹیمیں تشکیل دینے پرغور کیا گیا.

اجلاس میں‌ افسران نے نیب کی دو ٹیمیں اسلام آباد، دو لاہورایئرپورٹ پرتعینات کرنے پر مشاورت کی، ایک ٹیم میں چھ سے سات نیب اہل کار شامل ہوں گے، اس ضمن میں پولیس کی مدد بھی لی جائے گی.

نیب ٹیم میں ڈائریکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹرعہدے کے افسران شامل ہوں گے. ہنگامی صورت حال اور سیکیورٹی کے پیش نظربکتربند گاڑی کا استعمال کیا جائے گا.

اجلاس میں اس تجویز پر غور کیا گیا کہ نوازشریف کے لاہورایئرپورٹ پر لینڈ ہونے پر انھیں اسلام آباد منتقل کر دیا جائے گا.

واضح رہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں میاں نواز شریف کو مجموعی طور پر گیارہ، مریم نواز کو آٹھ اور کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال کی سزا ہوئی تھی.

یاد رہے کہ کیپٹن (ر) صفدر کو گرفتار کرکے اڈیالا جیل منتقل کر دیا گیا ہے.


ڈی جی نیب لاہور کا چیئرمین نیب کو خط

بعد ازاں ڈی جی نیب لاہور کی جانب سے چیئرمین نیب کو ایک خط لکھا گیا، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ نیب ٹیم کو ایئرپورٹ پر ہیلی کاپٹر درکار ہوگا۔

ڈی جیب نیب لاہور کا کہنا تھا کہ نوازشریف، مریم جمعہ کو لاہور ایئرپورٹ اتریں گے، انھیں گرفتار کرکے ہیلی کاپٹرسے اڈیالہ جیل منتقل کیا جائے گا۔

خط میں لکھا گیا کہ جب دونوں مجرم ائیرپورٹ پہنچیں، تو انھیں طیارے سے باہر نہ آنے دیا جائے، طیارے کے اندر ہی امیگریشن ہو۔

یاد رہے کہ اعلیٰ پولیس افسران نے بھی ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے سرجوڑ لیے ہیں، شہر کے چوبیس مقامات حساس قرار دیا گیا ہے۔

جمعے کے روز ڈھائی ہزار اہل کاروں کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ن لیگ کے کارکنوں کو ائیرپورٹ کے باہر جمع ہونےکی اجازت ہوگی۔


کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے لیے جیل میں بھی شاہانہ لوازمات


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں