The news is by your side.

Advertisement

نیب نے حمزہ شہباز کی ضمانت خارج کرانے کی تیاری کرلی

لاہور : نیب نے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہبازکےخلاف چارج شیٹ تیار کرلی ہے ، پراسیکیوشن حمزہ شہبازسےتحقیقات سےمتعلق عدالت کو آگاہ کرے گی، حمزہ شہباز ضمانت میں توسیع کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق نیب نے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی کی ضمانت خارج کرانےکی تیاری کرلی اور حمزہ شہبازکےخلاف چارج شیٹ تیار کرلی ہے۔

پراسیکیوشن حمزہ شہبازسےتحقیقات سےمتعلق عدالت کو آگاہ کر ے گی اور ان پر تحقیقات میں عدم تعاون کاالزام لگایاجائےگا۔

ہائی کورٹ سےضمانت حاصل کرنے کے بعد حمزہ شہباز کی نیب میں پیشوں کی رپورٹ بھی تیار کرلی گئی ہے ، جس میں بتایا گیا نیب نے حمزہ شہباز کو 12اپریل کواثاثہ جات،منی لانڈرنگ میں طلب کیا ، انھیں دن 11 بجے طلب کیاگیامگر ڈیڑھ بجے پیش ہوئے۔

رپورٹ میں کہا گیا دوران تفتیش حمزہ شہباز سےآمدن کےسولات کیےگئےتاہم مناسب جواب نہ دےسکے اور مشکوک ٹرانزیکشن سےمتعلق بھی حمزہ شہبازسورس آف انکم نہ بتاسکے جبکہ وہ حاصل گفٹس سےمتعلق بھی جواب نہیں دے سکے۔

مزید پڑھیں : حمزہ شہباز ضمانت میں توسیع کیلئے آج لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہوں گے

رپورٹ کے مطابق حمزہ شہباز کو 15اپریل کو چنیوٹ میں نالہ بنانے کے الزام میں طلب کیا گیا، حمزہ شہباز نے نالے سے متعلق بھی جعلی سروے کرایا اور نالےکی سرکاری فنڈ سے تعمیر کا مناسب جواب نہ دیا۔

حمزہ شہبازکودوبارہ اثاثہ جات،مبینہ منی لانڈرنگ میں 16 اپریل کوطلب کیا، رپورٹ میں بتایا گیا حمزہ شہباز کو دن 2 بجے کیامگرنیب آفس بند ہونے سے 15منٹ پہلے پیش ہوئے، ان سے مکمل ریکارڈ طلب کیاگیا، جو انہوں نے نامکمل فراہم کیا۔

خیال رہے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کی رمضان شوگرملز اور صاف پانی کیس میں عبوری ضمانت کا آخری روز ہے ، ضمانت میں توسیع کیلئے حمزہ شہباز آج لاہورہائی کورٹ میں پیش ہوں گے۔

واضح رہے کہ 6 اپریل کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس اور منی لانڈرنگ کیس میں نیب نے دو بار حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لئے ان کے گھر پر چھاپہ مارا تھا تاہم نیب انھیں گرفتار کرنے میں ناکام رہی تھی۔

بعد ازاں لاہور ہائی کوٹ نے حمزہ شہباز کی 10 دن کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی تھی اور اور نیب سےتفصیلی جواب طلب کرلیا تھا۔

حمزہ شہباز نے گرفتاری کے ڈر سےرمضان شوگرملزاورصاف پانی کیس میں بھی لاہورہائی کورٹ سے سترہ اپریل تک عبوری ضمانت حاصل کرلی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں