The news is by your side.

Advertisement

آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس، خورشید شاہ کے جسمانی ریمانڈ میں 13روز کی توسیع

سکھر:آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں احتساب عدالت نے پیپلز پارٹی کے رہنما خورشیدشاہ کے جسمانی ریمانڈ میں 13 روز کی توسیع کردی، نیب نے عدالت سے 15 دن کے مزید ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔

تفصیلات کے مطابق آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب ) کی جانب سے پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کو نو 9روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر احتساب عدالت پہنچادیا گیا ، خورشید شاہ کی پیشی کےموقع پر پیپلزپارٹی کے اہم رہنما رضا ربانی، اعتزازاحسن، قمرزمان قاہرہ، چودھری منظور  احمد، ناصرحسین شاہ اوردیگر رہنما موجود ہیں جبکہ پولیس نے سیکورٹی انتہائی سخت اقدامات کیے ہیں۔

سماعت میں نیب کی جانب سے خورشید شاہ کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی ، خورشیدشاہ کی جانب سے کیس میں رضا ربانی پیش ہوئے اور نیب کو مزید ریمانڈ دینے کی مخالفت کردی۔

رضاربانی نے کہا تمام کاغذات میرے ساتھی وکیل مکیش کمار کے پاس ہیں، جس پر خورشید شاہ کے ایک وکیل کی عدم موجودگی پر سماعت آدھے گھنٹے کیلئے ملتوی کی گئی۔

جج نے ریمارکس میں کہا شاہ صاحب جب تک آپ کے وکیل آ جائیں،آدھے گھنٹہ کارروائی معطل کرتے ہیں، نیب عدالت کا کورٹ روم چھوٹا ہے، آپ تمام کھڑے افراد کو بیٹھنے کے لئے نہیں کہہ سکتا، دور دور سے لوگ آئے ہیں مگر جگہ کی کمی کے باعث کھڑے ہیں۔

خورشید شاہ کے وکیل مکیش کمار احتساب عدالت پہنچے تو سماعت کا دوبارہ آغاز ہوا ، نیب نے بتایا کہ خورشیدشاہ کا گھر رفاہی پلاٹ پر بنا ہوا ہے اور ان کا گھر 60 ملین روپے کی لاگت سے بنا، گھر کی تعمیرآمدن سے زائد اثاثہ جات کی مد میں آتی ہے۔

نیب کی جانب سے مزید کہنا تھا کہ خورشید شاہ خاندان کے 10 بینک اکاؤنٹس ہیں اور ان بینک اکاؤنٹس میں کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشنز ہوئیں، خورشید شاہ کی بے نامی بہت ساری جائیدادیں ہیں۔

نیب نے احتساب عدالت سے15 دن کے مزید ریمانڈ کی استدعا کر دی ، جس پر وکیل مکیش کمار نے دلائل میں کہا خورشید شاہ کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے، ہائی کورٹ پہلے ہی ان الزامات سے خورشید شاہ کو بری کرچکی ہے، آپ کے حکم کے باوجود مجھے اکیلے خورشید شاہ سے ملنے نہیں دیا جاتا۔

خورشید شاہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ انکوائری افسر کے سامنے میں اپنے موکل سے کیا بات کروں، نیب افسرکہتے ہیں آپ خورشید شاہ سے صرف اردو میں بات کریں گے ، نیب کے پاس کوئی ثبوت نہیں، خورشیدشاہ کے خلاف کوئی ثبوت ہے تو آپ کے سامنے کیوں نہیں لاتے۔

وکیل مکیش کمار نے کہا 5 سو ارب سے کہانی شروع ہوئی جواب 4 پلاٹس پر رک گئی ہے، باہر سے نیب افسران کو سکھرلا کر صرف ہراساں کیا جارہا ہے۔

وکیل کا کہنا تھا کہ نواز دور حکومت میں بھی خورشید شاہ کا احتساب ہوا، دوسرا احتساب مشرف دور میں شروع ہوا، اب میرے موکل کا یہ تیسرا احتساب کا عمل شروع ہواہے، انشااللہ اس  بار بھی آپ کی عدالت خورشید شاہ کو باعزت بری کرےگی۔

خورشیدشاہ کے سابقہ کیسزمیں 5 عدالتی آرڈر نیب عدالت میں پیش کئے گئے۔

وکیل خورشیدشاہ نے بتایا کہ خورشیدشاہ کاگھرنجی سوسائٹی میں ہے، نجی سوسائٹی اپنی مرضی سےپلاٹس کی ترتیب میں ردوبدل کرسکتی ہے، شاہ صاحب کاگھرکسی سرکاری پلاٹ پرنہیں بناہوا ، جس پرجج نے سوال کیا آپ یہ کاغذات نیب والوں کو کیوں مہیا نہیں کرتے۔

وکیل نے کہا مزید ریمانڈ دینے کے بجائے خورشید شاہ کو جوڈیشل تحویل میں لیا جائے اور استدعا کی خورشیدشاہ کو جیل بھیجا جائے، اور عدالت نیب کو فوری تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دے۔

جج نے وکیل سے مکالمے میں کہا آپ اور موکل نیب سے تعاون کیوں نہیں کر رہے ، رضا ربانی نے جواب دیا کہ میرے موکل کو صرف سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ، جج صاحب خورشید شاہ کو پہلے الزامات سے سپریم کورٹ نے بھی بری کیا، نیب نے قانون کا مذاق بنا رکھا ہے، خورشیدشاہ کواسلام آبادسےگرفتار کرکےسیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔

رضا ربانی کا کہنا تھا کہ اس طرح سیاستدانوں کو میڈیا ٹرائل کرکے بدنام کیا جا رہاہے، جب نیب نے سوال نامہ بھیجاتووکیل سے مشاورت کا موقع دیتے، نیب والے انسانی حقوق کا بھی خیال نہیں رکھتے، خورشید شاہ کو رہا کرکے نیب کو ٹھوس ثبوت جمع کرانے کا حکم دیں۔

رضا ربانی نے مزید کہا نیب نےگزشتہ پیشی پرکہاتھا خورشیدشاہ کےخلاف ٹھوس ثبوت ہیں، کہاں ہیں وہ ثبوت،پیش کیوں نہیں کرتے، صرف زبانی الزامات کی قانون میں کیا اہمیت ہے، بےنامی جائیدادیں کہاں ہیں؟وہ فرنٹ مین کہاں ہیں۔

نیب نے خورشید شاہ کے خلاف خفیہ ڈائری جج کوپیش کر دی ، جس پر وکیل نے کہا ہمیں بھی اس کی کاپی مہیا کی جائے، نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ نہیں آپ کوڈائری نہیں دے سکتے۔

جج کا کہنا تھا کہ آپ پرانی ججمنٹ اوردیگرکاغذات نیب افسر کے حوالے کریں ، وکیل نے کہا خورشید شاہ کا مکمل اثاثہ جات کا ریکارڈ ایف بی آر،الیکشن کمیشن کے پاس ہے۔

رضا ربانی نے کہا مقدمےکی حساسیت کوسمجھیں،خورشیدشاہ کو ذہنی طورپرہراساں کیا گیا، مہربانی کرکے خورشید شاہ کو جیل بھیج کر وکلا سے ملنے کی اجازت دی جائے۔

نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ مزید ریمانڈ دیاجائے تاکہ تحقیقات کو حتمی نتیجے پر پہنچاسکیں۔

احتساب عدالت نے پیپلز پارٹی کے رہنما خورشیدشاہ کے ریمانڈ سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا، جس کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے خورشید شاہ کے وکلا کی استدعا مسترد کرتے ہوئے جسمانی ریمانڈ میں 13روزکی توسیع کردی۔

عدالت کا آئندہ سماعت پر نیب سکھر کو ٹھوس ثبوت پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے خورشید شاہ کو 14اکتوبر کو پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔

یاد رہے 18 ستمبر کو نیب سکھر اور راولپنڈی نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے آمدن سے زاید اثاثہ جات کیس میں خورشید شاہ کو گرفتار کیا تھا ۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں