The news is by your side.

Advertisement

اثاثہ جات کیس : خورشید شاہ مزید 15 روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے

سکھر : اثاثہ جات کیس میں احتساب عدالت نے پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کو مزید پندرہ روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے کرتے ہوئے 4 نومبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

تفصیلات کے مطابق سکھر کی احتساب عدالت میں پیپلز پارٹی کے رہنما خورشیدشاہ کے خلاف اثاثہ جات کیس پر سماعت ہوئی ، خورشید احمد شاہ کو ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد چوتھی بار احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔

اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، پولیس کی بھاری جمعیت نیب عدالت کے باہر اور اطراف میں تعینات کیا گیا تھا اور عدالت کے اطراف کی سڑکوں کو رکاوٹیں کھڑی کرکے سیل کیا گیا تھا، ہجوم سے بچنے کے لیے نیب کے حکام خورشید شاہ کو نیب عدالت کے پچھلے دروازے سے اندر لے جایا گیا۔

سماعت سے قبل عدالتی حکم پر این آئی سی وی ڈی کے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے ان کا معائنہ بھی کیا اور میڈیکل رپورٹ میں مجموعی حالت تسلی بخش قراردی گئی، خورشید شاہ کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور سینئر وکیل سابق چیئرمین سینٹ رضا ربانی کی سربراہی میں وکلاء کے پینل نے پیروی کی۔

سماعت کے اغاز پر نیب پراسیکیوٹر نے اب تک خورشید شاہ سے ہونے والی تحقیقات کی پیش رفت کے بارے میں آگاہ کیا اور کہا کہ خورشید شاہ تحقیقات میں تعاون نہیں کررہے ہیں ان سے جو سوال کیا جاتا ہے وہ جواب دیتے ہیں کہ یہ میرا نہیں خاندان کے اثاثے ہیں،

وکیل نے بتایا نیب کی نئی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ خورشید شاہ کا سائیٹ ایریا سکھر میں بھی دو ایکڑ کا پلاٹ ہے اور ایک پلاٹ سائیٹ ایریا کراچی میں ہے اس لیے نیب ان سے مزید تحقیقات کرنا چاہتا ہے اس لیے ان کو مزید ریمانڈ دیا جائے۔

نیب کے وکیل کا کہنا تھا کہ خورشید شاہ کے خاندان کے افراد بھی نیب سے تعاون نہیں کررہے ہیں ان کے صاحبزادے فرخ شاہ کو طلب کیا گیا تھا مگر وہ بھی پیش نہیں ہوئے خورشید شاہ کے فرنٹ مین اکرم خان کے اکاؤنٹ سے پچیس لاکھ روپے خورشید شاہ کے دو اکاؤنٹس میں ٹرانسفر ہوئے۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ خورشید شاہ کے خلاف تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کردیا گیا ہے، نیب قانون کے مطابق گرفتار ملزم خود نیب کے الزامات کے خلاف ثبوت فراہم کرتا ہے، عدالت سے استدعاہے کہ خورشید شاہ کا مزید پندرہ روزہ ریمانڈ دیا جائے۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں پہلاج مل کے خورشید شاہ کے بزنس پارٹنر ہونے کے کاغذات بھی پیش کردیئے، جس کی خورشید شاہ کے وکیل رضا ربانی نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ خورشید شاہ کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے، پہلاج مل کے خورشید شاہ کے بزنس پارٹنر ہونے کے جو کاغزات پیش کیے گئے ہیں ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اس ایگریمنٹ کو جب قانونی حیثیت حاصل ہوگی اس کو عدالت میں انڈوس بھی کیا جاسکتا ہے۔

رضا ربانی کا کہنا تھا کہ خورشید شاہ نے سائیٹ ایریا میں پلاٹ کے لیے درخواست دی ہے لیکن اب تک ان کو پلاٹ ملا نہیں ہے جبکہ پہلاج مل نے بھی خود نیب میں پیش ہوکر بیان دیا تھا کہ وہ خورشید شاہ کے بزنس پارٹنر نہیں ہیں ایسا ہی بیان اکرم خان بھی دے چکے ہیں ، نیب خورشید شاہ سے اپنی مرضی کا اعتراف کرنا چاہتا ہے جو آئین کے آرٹیکل بی 30 کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے ، عدالت ان کا مزید ریمانڈ دینے کے بجائے ان کا جوڈیشل ریمانڈ دے۔

اس موقع پر عدالت میں این آئی سی وی ڈی کے سربراہ ڈاکٹر ندیم قمر کی جانب سے خورشید شاہ کی میڈیکل رپورٹ پیش کی گئی جس میں بتایا گیا ہے کہ خورشید شاہ بیس برس سے عارضہ قلب میں مبتلا ہیں ان کی زندگی کو خطرہ ہے، انہیں این آئی سی وی ڈی منتقل کیا جائے انہیں سانس لینے سمیت بلڈ پریشر کا بھی مسئلہ ہے ان کا اسپتال منتقل ہونا ضروری ہے۔

نیب عدالت کے جج نے دونوں طرف کے دلائل سننے کے بعد نیب کی جانب سے مزید ریمانڈ دینے کی استدعا پر فیصلہ کچھ دیر کے لیے محفوظ کرلیا تاہم بعد ازاں جج نے فیصلہ سناتے ہوئے نیب کو خورشید شاہ کا مزید پندرہ روزہ ریمانڈ دے دیا اور انہیں دوبارہ 4 نومبر کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

مزید پڑھیں : بائیس سال کی عمرسے کاروبار کررہا ہوں، جیلوں سے نہیں ڈرتا، خورشید شاہ

یاد رہے گذشتہ سماعت میں احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثے کیس میں پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کا چھ روزہ ریمانڈ منظور کرتے ہوئے دوبارہ اکیس اکتوبر کو پیش کرنے کے احکامات جاری کئے تھے، خورشید شاہ نے کہا تھا کہ بائیس سال کی عمرسے کاروبار کررہا ہوں، جیلوں سے نہیں ڈرتا۔

واضح رہے 18 ستمبر کو نیب سکھر اور راولپنڈی نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے آمدن سے زاید اثاثہ جات کیس میں خورشید شاہ کو گرفتار کیا تھا ، بعد ازاں احتساب عدالت نے خورشید شاہ 21 ستمبر تک راہداری ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں