The news is by your side.

Advertisement

نیب کی کارکردگی رپورٹ، 9 ماہ میں قومی خزانے کو 2 ارب 20 کروڑ کا فائدہ

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو نے گزشتہ 9 ماہ کے دوران کرپٹ عناصر سے 2 ارب بیس کروڑ وپے وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق نیب نے گزشتہ 9 ماہ کی کارکردگی رپورٹ جاری کی جس میں بتایا گیا ہے کہ قومی احتساب بیورو نے کرپشن کے مختلف مقدمات میں نامزد 323 افراد کو گرفتار کیا۔

اس کے علاوہ نیب نے ملک کے مختلف علاقوں میں قائم احتساب عدالتوں میں ایون فیلڈ ریفرنس سمیت 1200 سے زائد ریفرنس دائر کیے جن میں سے بیشتر پر فیصلہ آچکا ہے۔

کارکردگی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کرپشن کا الزام ثابت ہونے پر ریفرنسز میں نامزد افراد کو احتساب عدالتوں سے قید اور جرمانے کی رقم ادا کرنے کی سزائیں سنائیں گئیں۔ نیب کے مطابق عدالتوں سے سزا یافتہ مجرمان سے 2 ارب 20 کروڑ روپے وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرائے گئے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کے لیے نیب کی خصوصی ٹیم تشکیل

نیب کی جانب سے عدالتوں میں دائر تمام ریفرنسز کی جلد سماعت کے لیے مزید درخواستیں دائر کی جائیں گی تاکہ کرپٹ عناصر کے خلاف احتساب کا عمل مزید تیز ہوسکے۔

واضح رہے کہ تین روز قبل یعنی 26 جولائی کو چیئرمین نیب جاویداقبال کی زیرصدارت ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں اجلاس کا انعقاد کیا گیا تھاجس میں قومی احتساب بیورو کی کارکردگی اور زیر التوا مقدمات پر بریفنگ دی گئی تھی۔

اجلاس میں سپریم کورٹ میں نیب کی زیرسماعت مقدمات اور احکامات پرعملدرآمدکا جائزہ بھی لیا گیا تھا جبکہ قومی احتساب بیورو کے سربراہ نے عدالتی احکامات پر عمل درآمد کروانے کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دی۔

اس موقع پر چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کےاحکامات پرمن و عن عملدرآمد کو یقینی بنایاجائے، اس معاملے میں ادارہ کسی بھی ملازم کی کوئی کوتاہی برادشت نہیں کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: چیئرمین نیب نے بلوچستان کے دورے میں سادگی کی مثال قائم کردی

خیال رہے کہ 11 جولائی کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں قومی احتساب بیورو (نیب) بلوچستان کے دفتر میں افسران سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ ’نیب کے قیام کا مقصد ہر صورت پورا کیا جائے، پٹواری، تھانیدار یا پھر کسی بھی عہدے پر تعینات شخص کا احتساب کیا جائے گا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ احتساب ہوگا تو بلا تفریق ہوگا ورنہ کسی کا نہیں ہوگا، ’اب بات شروع ہوگی تو اوپر سے شروع ہوگی پٹواری یا تھانیدار سے نہیں، کوئی کسی بھی عہدے پر رہا احتساب سب کا بلا تفریق ہوگا‘۔

چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ ہر پاکستانی کی عزت نفس کا پورا خیال رکھا جائے گا، کسی ایک شخص یا جماعت نہیں ہر شخص کا بلا تفریق احتساب ہوگا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک’پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں