The news is by your side.

Advertisement

اثاثہ جات ریفرنس: اسحاق ڈار کےخلاف گواہ سدرہ منصور کا بیان قلمبند

اسلام آباد: اسحاق ڈار کےخلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے ریفرنس کی سماعت ہوئی جس میں استغاثہ کی گواہ سدرہ منصور کا بیان قلمبند کر لیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کے احتساب عدالت میں نیب ریفرنس سے متعلق سماعت ہوئی، عدالت نے نیب کے  ایک اور گواہ تفتیشی افسر واجد ضیا کو طلب کرتے ہوئے پراسیکیوٹر سے  کہا کہ جلد ان کی حاضری یقینی بنائیں۔

جس پر نیب پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ واجد ضیا کی حاضری کے لیے ایک دو دن کی مہلت دی جائے، جلد عدالت میں پیش ہونگے۔

اثاثہ جات ریفرنس: 16 سال میں اسحاق ڈار کی دولت میں91 گنا اضافہ ہوا

خیال رہے کہ  گزشتہ روز کی سماعت میں استغاثہ کے 6 گواہان شکیل انجم، ڈپٹی ڈائریکٹرنیب اقبال حسن ، عمردراز گوندل، محمد اشتیاق، ڈسٹرکٹ افسرانڈسٹریزاصغرحسین اورنیب اسسٹنٹ ڈائریکٹر زاورمنظورنے بیانات قلمبند کرائے تھے۔

گزشتہ روز جج محمد بشیر کی سربراہی میں ہونے والے نیب ریفرنس کی سماعت میں استغاثہ کے گواہ نے یہ انکشاف کیا تھا کہ سابق وزیرخزانہ کی دولت میں 16 سال کے دوران 91 گنا اضافہ ہوا۔

اسحاق ڈار، ان کی اہلیہ اورکمپنی بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات عدالت میں پیش

اسحاق ڈار کے اثاثوں کا ریکارڈ پیش کرتے ہوئے گواہ اشتیاق احمد نے انکشاف کیا تھا کہ جون 1993 میں اسحاق ڈار کے کُل اثاثے 91 لاکھ 12 ہزار سے زائد تھے جو جون 2009 تک 83 کروڑ 16 لاکھ 78 ہزار سے زائد ہوگئے۔

خیال رہے اب تک اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے ریفرنس میں استغاثہ کے 28 میں سے 25 گواہوں کے بیانات قلمبند کرلیے گئے ہیں جبکہ عدالت نے نیب کے ایک اور گواہ تفتیشی افسر واجد ضیا کو طلب کر رکھا ہے۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں