site
stats
پاکستان

ایون فیلڈ ریفرنس، نیب تحقیقاتی رپورٹ، نوازشریف اور اہل خانہ کے گرد گھیرا تنگ

رپورٹ کے مطابق نواز شریف اور اہل خانہ ’کرپٹ پریکٹسز‘ میں ملوث پائے گئے

اسلام آباد : ایون فیلڈ ضمنی ریفرنس میں نیب کی جانب سے جمع کرائی گئی تحقیقاتی رپورٹ میں نواز شریف، حسین و حسن نواز، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کرپشن میں ملوث پائے گئے ہیں.

تفصیلات کے مطابق یہ انکشافات شریف خاندان کی ایون فیلڈ میں فلیٹس کی خریداری سے متعلق نیب کی تحقیقاتی رپورٹ میں کیے گئے ہیں جب کہ رپورٹ میں مبینہ جعلی بیانِ حلفی جمع کرانے پرطارق شفیع کے خلاف کارروائی کی سفارش بھی کی گئی.

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ لندن فلیٹس کی خریداری اور نوازشریف کی ظاہری آمدن میں کوئی مطابقت نہیں ہے جب کہ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ نواز شریف نے ایون فیلڈز کی جائیداد عوامی عہدہ رکھتے ہوئے خریدی.

نیب رپورٹ کے متن مطابق شواہد سے ثابت ہوا ہے کہ ٹرسٹ ڈیڈ پر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے بھی دستخط کیے ہیں جب کہ سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز اور دونوں صاحبزادوں حسن و حسین نواز نے جعلی ٹرسٹ ڈیڈ عدالت میں جمع کرائے.


اسی سے متعلق :  نواز شریف ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے اصل مالک نکلے، ضمنی ریفرنس میں اہم انکشافات


نیب کی رپورٹ میں مریم نواز کے نومبر2011 میں ایک نجی چینل کو دیئے گئے انٹرویو کا زکر بھی کیا گیا ہے جس میں انہوں نے دعوی کیا تھا کہ لندن میں ان کی کوئی جائیداد نہیں ہے.

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ *ایون فیلڈ عبوری ریفرنس دائر کرنے سے پہلے اور بعد میں ملزمان کو نوٹس جاری کیے گئے لیکن ملزمان نے تعاون نہیں کیا جب کہ یہ نیلسن، نیسکول لمیٹڈ اور کومبرگروپ کی ٹرسٹ ڈکلیئریشن کی تحقیقات میں بھی اہم جزو ہیں.

رپورٹ میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ مریم نواز برٹش ورجن آئی لینڈ کی 2 آف شورکمپنیز کے بینیفشل اونر ہیں جب کہ عدالت میں اپنے اسٹیٹ منٹس میں کہا گیا تھا کہ حسین نواز 2006 سے ایون فیلڈ اپارٹمنٹنس کے مالک ہیں.


یہ بھی پڑھیں : برطانیہ میں ایون فیلڈ اپارٹمنٹ کی تحقیقات، کیا یہ بھی عالمی سازش ہے؟ عمران خان


رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نوٹس ملنے کے باوجود ملزمان تحقیقات میں شامل نہیں ہوئے چنانچہ نیب کے تفتیشی افسر ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عمران نے ملزمان کےعدالت میں دیئے گئے دستاویز و بیانات اور میڈیا میں کی گئی گفتگو کا موازنہ کرکے تحقیقاتی رپورٹ تیارکی.


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

loading...

Most Popular

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top