پشاور : کوہستان کرپشن اسکینڈل میں 4 ارب 5 کروڑ کی پلی بارگین کرنے والے ڈمپر ڈرائیور کو رہا کردیا گیا، تحقیقات کے دوران ملزم کے اربوں روپے کے اثاثے بھی نکل آئے۔
تفصیلات کے مطابق کوہستان کرپشن اسکینڈل میں گرفتار ڈمپر ڈرائیور ممتاز نے نیب کے ساتھ 4 ارب 5 کروڑ روپے کی پلی بارگین کی، جسے احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے باضابطہ طور پر توثیق کر دی۔
عدالت کی توثیق کے بعد ملزم کو رہا کر دیا گیا، نیب کے مطابق ملزم ممتاز ڈمپر ڈرائیور تھا اور اس کے اکاؤنٹس سے بھاری رقم ٹرانسفر ہوئی اور تحقیقات کے دوران اس کے اربوں روپے کے اثاثے بھی سامنے آئے۔
نیب کا کہنا ہے کہ پلی بارگین کے تحت ملزم کی ذمہ داریوں اور جرمانوں کی تفصیلات طے کی گئی ہیں، جس کے بعد اسے رہا کیا گیا۔
اسے قبل کوہستان کرپشن اسکینڈل کیس میں ملزمان نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو پلی بارگین کی درخواستیں دی تھیں۔
نیب ذرائع نے بتایا کہ 3 ملزمان نے نیب کو 15 ارب سے زائد کی پلی بارگین کی درخواستیں دیں، درخواستوں میں بینک اکاؤنٹس، جائیدادیں، گاڑیاں، سونا اور نقدی ظاہر کی گئی ہے، ملزمان کی کچھ جائیدادیں رشتہ داروں کے نام پر بھی ہیں۔
یاد رہے گذشتہ سال اکتوبر میں نیب پشاور نے کوہستان مالیاتی اسکینڈل کے مرکزی ملزم قیصر اقبال کے گھر پر چھاپہ مار کر 20 کروڑ روپے نقدی برآمد کی تھی۔
کارروائی ملزم کی گرفتار اہلیہ کی نشاندہی پر کی گئی، برآمد ہونے والی رقم پینٹ کے ڈبوں میں چھپائی گئی تھی۔
قیصر اقبال اور ان کی اہلیہ پر 34 ارب روپے کے غبن کا الزام ہے جبکہ ادارہ اب تک 14 ارب روپے کی رقم پہلے ہی برآمد کر چکا ہے۔
دونوں میاں بیوی کو ایبٹ آباد سے گرفتار کیا گیا تھا، اور احتساب عدالت نے گزشتہ روز انہیں تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا جبکہ اسکینڈل میں 20 سے زائد ملزمان گرفتار ہوچکے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


