The news is by your side.

Advertisement

بدعنوانی کے خلاف تحقیقات، نیب نے وزرا اور ارکان کی فہرست عدالت میں‌ جمع کرادی

کراچی: قومی احتساب بیورو (نیب) نے بدعنوانی میں ملوث وزراء اور منتخب اراکین اسمبلی سمیت 572 بیوروکریٹس کی فہرست سندھ ہائی کورٹ میں پیش کردی۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں نیب قوانین کو مسترد کرنے کے حوالے سے سماعت کی گئی جس میں نیب نے وزرا اور منتخب اراکین کے خلاف ہونے والی تحقیقات کی فہرست عدالت کو پیش کی۔

نیب کی جانب سے دی جانے والی فہرست میں بتایا گیا ہے کہ منتخب اراکین اسمبلی کے خلاف بدعنوانی کی تحقیقات جاری ہیں، جن وزراء کے خلاف تحقیقات جاری ہیں اُن میں وزیر ایکسائز گیان چند ایسرانی اور سابق رکن سندھ اسمبلی غلام قادر پلیجو شامل ہیں۔

نیب کی طرف سے سندھ ہائی کورٹ میں جمع کروائی جانے والی فہرست میں بتایا گیا ہے کہ دوست محمد اور ٹھٹھہ سے منتخب ہونے والے سابق رکن اسمبلی اعجاز شاہ شیرازی کے خلاف بھی بدعنوانی کی تحقیقات جاری ہیں۔

پڑھیں: سندھ ہائیکیورٹ نے نیب کو انکوائریاں جاری رکھنے کی اجازت دے دی

قومی احتساب بیورو کی جانب سے جمع کروائی گئی تفصیل میں کہا گیا ہے کہ متحدہ کے سابق وزیر اور موجودہ رکن اسمبلی رؤف صدیقی، عادل صدیقی، سابق ناظم کراچی مصطفیٰ کمال، سابق رکن سندھ اسمبلی محمد علی مالکانی جبکہ ضیاء الحسن لنجار، عبدالستار راجپر بھی شامل ہیں۔

نیب کی فہرست کے مطابق رکن سندھ اسمبلی حاجی عبدالرؤف کھوسو، صوبائی وزیرآغا طارق اور سابق وزیر بلدیات و اطلاعات شرجیل میمن سمیت مشیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کے خلاف بھی تحقیقات جاری ہیں۔

مزید پڑھیں: نیب غیر قانونی کام کرے گی تو آئینی طور پر جواب دیں گے: وزیر اعلیٰ سندھ

 بیورو کریٹس کے ناموں کی فہرست

قومی احتساب بیورو نے 572 افسران بیوروکریٹس کے ناموں کی فہرست بھی سندھ ہائی کورٹ میں پیش کی جس کے مطابق سکھر میں 210 کراچی میں 87 اور سکھر میں 253 جبکہ سندھ میں 38 وفاقی افسران کے خلاف بدعنوانی مقدمات کی تحقیقات جاری ہیں، افسران میں چیئرمین لینڈ ریگولرائزیشن کمیٹی کے زاہد علوی، ممبر لینڈ یوٹیلائزیشن آغا سیف الدین خان، سیکریٹری شاہ زرشمعون شامل ہیں۔

دیگر افسران میں گریڈ 21 کے افسر سید غلام نبی، سیکریٹری زراعت سید گلزار شیخ، سیکریٹری اسپیشل ایجوکیشن نورمحمد لغاری، بورڈ آف ریونیو کے ممبر غلام علی شاہ، ایس بی سی اے کے سابق ڈائریکٹر جنرل منظور کاکا جبکہ ڈی جی ایس بی سی اے آغا مسعود ناصر سمیت پولیس، زراعت، محکمہ آبپاشی، جنگلات اور بلدیات افسران کے خلاف بھی تحقیقات جاری ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ نے نیب کو بدعنوانی کے خلاف تحقیقات اگلی سماعت تک جاری رکھنے کی ہدایت جاری کردی۔

واضح رہے کہ حکومت سندھ نے نیب کارروائیوں کے خلاف احتساب آرڈیننس 1999 ختم کرنے کا بل اسمبلی سے منظور کروایا تھا تاہم اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں منظور شدہ بل کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں