The news is by your side.

Advertisement

پارک لین کیس : نیب نے بلاول بھٹو کو 24 مئی کو دوبارہ طلب کرلیا

راولپنڈی: قومی احتساب بیورو (نیب) نے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کو دوبارہ طلب کر لیا، بلاول بھٹو کو پارک لین کیس میں24 مئی کو طلب کیاگیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کو نیب راولپنڈی نے ایک بار پھر پارک لین کیس میں طلب کر لیا ہے، نیب نے 24 مئی کو طلبی کا نوٹس جاری کر دیا گیا ہے، لاول نے پہلی پیشی پر سوالات کے جوابات بھی تا حال جمع نہیں کرائے۔

اس سے قبل نیب راولپنڈی نے 17 مئی کو چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کو پارک لین کیس میں طلب کیا تھا، نیب کی جانب سے بلاول بھٹو کو تنہا طلب کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں : بلاول بھٹو نے نجی مصروفیات کے باعث نیب میں پیشی سے معذرت کرلی

بعد ازاں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے نجی مصروفیات کے باعث نیب میں پیشی سے معذرت کرلی تھی ، نیب کو لکھے گئے جوابی خط میں ان کا کہنا تھا کہ آئندہ ہفتے پیشی کے لئے کوئی تاریخ مقرر کی جائے۔

یاد رہے  20 مارچ کو آصف زرداری اور بلاول بھٹو نیب کی تفتیشی ٹیموں کے سامنے پیش ہوئے تھے، نیب کی 16 رکنی ٹیم نے ان سے پوچھ گچھ کی، بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بلاول نے  کہا تھا امید کرتا ہوں آئندہ مجھے نیب نہیں بلائے گا۔

نیب کی جانب سے پی پی رہنماؤں کو سوال نامہ فراہم کیا گیا تھا اور ہدایت کی گئی تھی کہ 3 سے 4 دن میں جوابات جمع کرائے جائیں۔

مزید پڑھیں :  پارک لین جعلی اکاؤنٹس کیس، گرفتار ملزم زرداری اور بلاول کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن گیا

خیال رہے کہ پارک لین جعلی اکاؤنٹس کیس میں گرفتار ملزم سلیم فیصل آصف زرداری اور بلاول کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن گیا ہے۔

فیصل سلیم نے نیب کی تفتیشی ٹیم کو بیان دیا تھا کہ پارک لین کی انتظامیہ کے حکم پر تمام کام کیے، بلاول بھٹو اور آصف زرداری پارک لین کے 25 ، 25 فی صد پارٹنر ہیں۔

واضح رہے پارک لین کیس میں اربوں روپےکی ترسیلات جعلی بینک اکاؤنٹس سے کی گئیں، آصف زرداری پرپارک لین کمپنی میں 1989 میں فرنٹ مین کے ذریعے خریداری کاالزام ہے۔

ذرائع کا کہناتھا  2009 میں آصف زرداری اور بلاول بھٹو کمپنی کے شیئرہولڈر بنے،دونوں 25،25فیصد کےشیئر ہولڈر ہیں، آصف زرداری بطور کمپنی ڈائریکٹر اکاؤنٹس استعمال کرنےکااختیار رکھتے تھے جبکہ 2008 میں کمپنی کے دستاویز پر آصف زرداری کےبطور ڈائریکٹر دستخط موجود ہیں، پارک لین کمپنی نے قرضوں کی مد بھی بینکوں سے اربوں روپے لیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں