صاف پانی کرپشن اسکینڈل ، حمزہ شہباز کو دوبارہ طلب کرنے کا فیصلہ
The news is by your side.

Advertisement

صاف پانی کرپشن اسکینڈل ، حمزہ شہباز کو دوبارہ طلب کرنے کا فیصلہ

لاہور : نیب لاہور نے رکن پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کو دوبارہ طلب کرنے کا فیصلہ کر لیا، حمزہ شہباز پر الزام ہے کہ انہوں بغیر کسی عہدے کے صاف پانی کمپنی کی میٹنگ کی صدارت کی۔

تفصیلات کے مطابق صاف پانی کرپشن اسکینڈل میں مزید پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے بعد نیب لاہور نے رکن پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کو دوبارہ طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حمزہ شہباز پر الزام ہے کہ انہوں بغیر کسی عہدے کے صاف پانی کمپنی کی میٹنگ کی صدارت کی، حمزہ شہباز کی میٹنگ میں موجودگی سے منصوبے کے ٹھیکوں پر اثر انداز ہونے کے شواہد ملے ہیں۔

ذرائع کے مطابق وسیم اجمل، قمر الاسلام اور دیگر گرفتار ملزمان کے بیانات سے بھی شواہد ملتے ہیں کہ حمزہ شہباز پلانٹ لگانے کے منصوبے پر اثر انداز ہوئے۔

حمزہ شہباز اس سے قبل 18 مئی کو نیب لاہور میں صاف پانی کرپشن کیس کے حوالے سے پیش ہو چکے ہیں، جس کے بعد نیب نے حمزہ شہباز سے 13 مختلف سوالات کے جواب مانگتے ہوئے 24 مئی کو دوبارہ طلب کیا تھا۔

یاد رہے گذشتہ ماہ کے آغاز میں صاف پانی کیس میں سابق چیف ایگزیکٹیوآفسر وسیم اجمل وعدہ معاف گواہ بننے کو تیار ہوگئے تھے اور مہنگے ٹھیکے دینے کا ذمہ دار شہباز شریف کو قرار دیا تھا۔

خیال رہے کہ 25 جون کو نیب لاہور نے قمرالاسلام کو نیب لاہور نے راولپنڈی سے گرفتار کیا تھا ، ترجمان نیب کا کہنا تھا قمرالاسلام پر ایک ارب روپے سے زائد کرپشن کا الزام ہے جبکہ خوردبرد کے الزام میں صاف پانی کمپنی کے سابق سی ای او وسیم اجمل کو بھی گرفتار کرلیا گیا تھا۔

واضح رہے صاف پانی کیس میں 4 ماہ قبل چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے از خود نوٹس لے کر شہباز شریف کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا تھا اور انھوں نے عدالت کو تین ہفتوں میں صاف پانی کی فراہمی اور واٹر ٹریٹمنٹ کا منصوبہ پیش کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں