The news is by your side.

Advertisement

نیب کا وزیر تعلیم سندھ کو قانونی نوٹس بھجوانے کا فیصلہ

کراچی: قومی احتساب بیورو نے وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کو قانونی نوٹس بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق نیب نے سعید غنی کے ادارے کے حوالے سے بیان کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے مقدمات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے، سعید غنی کو قانونی نوٹس بھیجا جائے گا۔

نیب نے وزیر تعلیم سندھ کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی وزیر کے خلاف کراچی میں تحقیقات جاری ہیں، سعید غنی کے بیان کے جواب میں حلیم عادل شیخ سے متعلق بھی نیب نے کہا کہ ان کے خلاف بھی نیب کراچی میں انکوائری جاری ہے۔

قبل ازیں، آج سعید غنی نے میڈیا سے گفتگو میں نیب اور چیئرمین کے خلاف دھواں دار بیان دیا، انھوں نے نیب کی جانب سے جاری ایک پریس ریلیز سے متعلق تمسخر کا انداز اختیار کرتے ہوئے ’میں ڈر گیا ہوں‘، انھوں نے کہا ’مجھے رات بھر نیند نہیں آئی۔‘

سعید غنی نے کہا کہ اس پریس ریلیز میں لکھا ہے کہ میں توہین نیب کا مرتکب ہوا ہوں، میرے بیان کا 31 اے کے تحت جائزہ لیا جا رہا ہے، نیب اسی طرح اس ملک کے معزز لوگوں کے ساتھ زیادتی کر رہی ہے، ظلم کرو، لوگوں کا مستقبل برباد کرو، اور اس پر ہم بات نہ کریں، ایسا نہیں ہو سکتا۔

وزیر تعلیم نے واضح دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرتے ہوئے للکارا ’جو مجھے بولنا ہے میں بولوں گا، آپ غلط آدمی سے پنگا لے رہے ہیں، میں کہتا ہوں پہلی پیشی پر پورے سال کا ریمانڈ لے لو میرا، مجھے نوٹس بھیجیں اور بلائیں، میں ضمانت بھی نہیں کراؤں گا۔‘

انھوں نے حلیم عادل شیخ سے متعلق کہا انھوں نے غلط طریقے سے لوگوں کو زمینیں بیچی ہیں، نیب کو حلیم عادل کا نام ای سی ایل میں ڈالنا چاہیے، خود نیب نے کہا حلیم عادل پر زمین پر قبضے کے الزامات درست ہیں، لیکن توقع نہیں تھی کہ میرے حلیم عادل کی گرفتاری کے مطالبے پر نیب کے پیٹ میں درد ہوگا، میرا یہ کہنا گناہ ہے کہ پی ٹی آئی کے لوگوں کو گرفتار کرو۔

سعید غنی نے چیئرمین نیب کی عمر کا بھی حوالہ دیا، اور کہا کہ نیب کا قانون ظالمانہ ہے، چیئرمین نیب 80 سال کے ہوں گے، وہ اگر بلیک میل ہو رہے ہیں تو عہدہ چھوڑ دیں، میں ان کو جانتا ہوں جن کے گھر نیب کارروائیوں کی وجہ سے تباہ ہوگئے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں