The news is by your side.

Advertisement

سابق وزرائےاعظم کیخلاف بلٹ پروف گاڑیوں کا کیس انکوائری سےانویسٹی گیشن میں تبدیل

اسلام آباد : سابق وزرائےاعظم نوازشریف اورشاہد خاقان کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا، چیئرمین نیب بلٹ پروف گاڑیوں کے کیس میں انکوائری کو انویسٹی گیشن میں تبدیل کرنےکی منظوری دے دی۔

تفصیلات کے مطابق چیئرمین نیب جسٹس (ر ) جاوید اقبال کی زیرصدارت ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس جاری ہے، اجلاس میں ڈپٹی چیئرمین نیب سمیت دیگر افسران شریک ہیں۔

نیب کے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس میں بلٹ پروف گاڑیوں کے کیس میں انکوائری کو انویسٹی گیشن میں تبدیل کرنے کی منظوری دے دی گئی۔

کیس میں وزرات خارجہ اوراسٹیبلشمنٹ کے افسران بیان ریکارڈ کراچکے ہیں جبکہ نواز شریف، شاہد خاقان اور فوادحسن فواد کا بیان بھی لیا جا چکا ہے۔

اجلاس میں مختلف ریفرنسز،انویسٹی گیشن اور انکوائری کی منظوری دی جائےگی جبکہ آصف زرداری کے خلاف پارک لین کیس میں ضمنی ریفرنس سمیت مختلف انویسٹی گیشن اورانکوائری کی منظوری پر بھی غور ہے۔

چیئرمین نیب کا کہنا ہے لوٹی ہوئی 326 ارب روپے کی رقم وصول کی جائے گی۔

مزید پڑھیں : سرکار ی گاڑیوں کا ذاتی استعمال: نیب ٹیم کی کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے تفتیش

یاد رہے سابق وزیرِ اعظم کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کے انکشاف پر نواز شریف کے خلاف بلٹ پروف گاڑیوں کے غلط استعمال پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا، تفتیش کی اطلاع ملتے ہی ایک گاڑی وزارتِ خارجہ واپس بھجوا دی گئی، دوسری کی تلاش جاری ہے۔

نیب کے مطابق سارک کانفرنس کے لیے جرمنی سے 34 بلٹ پروف گاڑیاں بغیر ڈیوٹی ادائیگی کے خریدی گئیں، جنہیں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے استعمال کیا جبکہ جرمنی سے درآمد شدہ گاڑیاں سارک کانفرنس 2016 میں شرکت کے لیے آنے والے غیر ملکی مہمانان کے استعمال میں آنا تھیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں