The news is by your side.

Advertisement

نیب نقائص پر مبنی تحقیقات کو ریفرنس میں بدل دیتا ہے، سپریم کورٹ کا اظہار برہمی

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ایک حکم نامے میں احتساب ادارے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیب ریفرنس کے فیصلوں میں تاخیر کی وجہ نیب خود ہے، نیب نقائص پر مبنی تحقیقات کو ریفرنس میں بدل دیتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق نیب چیئرمین جاوید اقبال نے سپریم کورٹ کو احتساب عدالتوں میں کرپشن ریفرنسز کے فیصلوں میں تاخیر سے متعلق وجوہ پیش کیے تھے، اور کہا تھا کہ کرپشن مقدمات پر 30 دن میں فیصلہ ممکن نہیں، موجودہ احتساب عدالتیں مقدمات کا بوجھ اٹھانے کے لیے ناکافی ہیں۔

آج چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد سمیت تین رکنی بینچ نے لاکھڑا پاور پلانٹ تعمیر میں بے ضابطگیوں سے متعلق کیس میں ایک حکم نامہ جاری کیا، جس میں سپریم کورٹ کے بینچ نے کہا ہے کہ نیب ریفرنس کے فیصلوں میں تاخیر کی وجہ نیب خود ہے، نیب کے پاس نہ صلاحیت ہے نہ ہی انکوائری اور تحقیقات کا تجربہ ہے، نیب میں انکوائری کا جائزہ لینے کا کوئی پیمانہ نہیں، نقائص پر مبنی تحقیقات کو ریفرنس میں بدل دیا جاتا ہے۔

کرپشن مقدمات پر 30دن میں فیصلہ ممکن نہیں، چیئرمین نیب نے سپریم کورٹ کو آگاہ کردیا

سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب کو مرتب ریفرنس کا خود جائزہ لینے کی ضرورت ہے، نیب 30 روز میں ریفرنس پر فیصلے کو یقینی بنائے، فیصلوں میں تاخیر کی وجہ نیب، آفیشل اور پراسیکیوشن ٹیم ہے، چیئرمین اگر سمجھے کہ ان کی ٹیم کے تجربے کا ایشو ہے تو ٹیم کو تبدیل کر دیں۔

تین صفحات پر مشتمل سپریم کورٹ کے حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نیب اپنے رولز مرتب کر کے آئندہ سماعت پر پیش کرے اور چیئرمین نیب آئندہ سماعت پر تحریری جواب دیں۔

ججز کا کہنا تھا کہ سیکریٹری قانون نے کابینہ سے نئی 120 عدالتوں کی منظوری لے کر ججز کی تعیناتی کا بیان دیا ہے، اب ان نئی احتساب عدالتوں میں ججز نیب ریفرنس پر جلد فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں