site
stats
اے آر وائی خصوصی

عشرت العبادکراچی کے سیاسی انتشار کو ختم کرنے جلد واپس آئیں گے: نبیل گبول

سینئرسیاستدان نبیل گبول کا کہنا ہے کہ بانی متحدہ قومی موومنٹ کا باب بند ہوچکا ہے‘ بہت جلد عشرت العباد کراچی کے سیاسی انتشار کو کنٹرول کرنے کے لئے پاکستان واپس آجائیں گے۔

اے آروائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ پاناما کیس جیتے یا ہارے قبل ازوقت انتخابات کرائے گی ‘ اگلے مہینے سے وہ  لیاری سے انتخابات کے لیے سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کریں گے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے سابقہ سینئر راہنما سردار نبیل احمد خان گبول، سردار خان احمد خان گبول کے بیٹے ہیں. ذوالفقارعلی بھٹو کے قریبی ساتھی اور پیپلزپارٹی کے بانی رُکن بیرسٹر عبدالستار گبول آپ کے چچا تھے ۔

اُن کے دادا سردار خان بہادر اللہ بخش گبول تقسیمِ ہند سے پہلے کی سندھ اسمبلی کے ’’ ڈپٹی اسپیکر ‘‘ رہےاور کراچی کے دومرتبہ میئربھی۔ تحریکِ پاکستان میں سرداراللہ بخش گبول کا بڑا مثبت کردار رہا ۔ اُن کے والد خان احمد خان گبول اورچچا عبدالستار گبول نےپاکستان کی سیاست میں بڑا فعال کردار ادا کیا۔

nabeel-gabol-post-1

اُنھوں نے 24 سال کی عمر میں سیاسی کیریئر کا آغازپاکستان پیپلزپارٹی سے کیا۔ اَب تک مسلسل پانچ مرتبہ وہ پاکستان پیپلزپارٹی کے لیے اور ایک مرتبہ ایم کیوایم کے لیے سیٹ جیت چکے ہیں۔ ممبر قومی و صوبائی اسمبلی منتخب ہونے کے علاوہ اُنہیں سندھ کے کم عمرترین ڈپٹی سپیکرہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔


اے آر وائی نیوز: آپ نے تا حال کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار نہیں کی‘ اس کی کیا وجہ ہے ؟

نبیل گبول: فی الحال کوئی ایسی سیاسی جماعت میری سمجھ میں نہیں آ رہی ہے جس کو میں جوائن کروں۔ ہو سکتا ہے میں عنقریب پیپلزپارٹی یا تحریک انصاف میں شمولیت  کرلوں۔ اس سلسلے میں میں ابھی سوچ رہا ہوں‘ تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

اے آر وائی نیوز: پانامہ لیکس کیس کس سمت میں جا رہا ہے ؟

نبیل گبول: مجھے پانامہ لیک کی سمت نواز شریف کے حق میں بہتر نظرآرہی ہے۔ دیکھیں پانامہ لیکس کا فیصلہ عوام کو کرنا چا ہیے۔
دنیا بھرمیں عوام گھر وں سے نکلے ہیں اور اپنے عہد ے داروں سے استعفی طلب کیے ہیں. انصاف کے حصول کے لئے عوام کو سٹرکوں پر آنا ہوگا۔

اے آر وائی نیوز: عوام کو سٹر ک پر لا کر ہی تو پانامہ کیس عدالت تک پہنچا‘ آپ کے مطابق پانامہ کی سمت نواز حکو مت کے حق میں ہے تو کیا اب کی بارآپ عوام کے ساتھ سراپا احتجاج ہوں گے ؟

نبیل گبول: دیکھیں کسی بھی سیاسی جماعت کو الیکشن جیتنے کے لئے کوئی سلو گن لے کرچلناہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں تحریک انصاف پانامہ لیکس کے فیصلے کے بعد دوبارہ لوگوں کو سڑکوں پرلا ئیں گے لیکن میں عمران خان کو مشورہ دوں گا کہ جب تک الیکشن کمیشن غیرجانب دارنہیں ہو گا‘ کوئی مثبت اقدام نہیں ہونے والا ہے۔ لہذا ان کو الیکشن کمیشن کو غیرجا نب دار اورووٹ کے عمل کو شفاف بنانے کے لئے عوام کو سڑ کوں پر لانا ہو گا. ورنہ ایک بار پھر ظالم حکمران قوم کا مقدر بنیں گے۔

nabel-gabol-post-2

اے آر وائی نیوز: کیا آپ عمران خان کو عوام کو ایکبار پھر سٹر کوں پر لانے کا مشورہ دے رہے ہیں ؟

نبیل گبول : میں آصف زرداری اورعمران خان دونوں کو کہنا چاہوں گا کہ  یہ دونوں پارٹیاں اسمبلیو ں سے استعفی دیں اور الیکشن کے عمل کو شفاف بنانے کے لئے اقدامات کریں۔

میں بھی الیکشن کی تیا ری کرنے لگا ہوں‘ اگلے ماہ انشاء اللّه لیاری میں بہت بڑا جلسہ کروں گا کیوں کہ مجھے لگتا ہے کہ نواز حکومت 2018 سے قبل عام انتخابات کر وائے گی۔

اے آر وائی نیوز: آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے ؟

نبیل گبول : اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس الیکشن مہم کا یہ سنہری موقع ہوگا‘ اگرپانامہ لیکس کیس میں حکمراں میں جیت جاتے ہیں تو وہ سرخروہو کرعوام کے سامنے آئیں گے اورہارگئے تب بھی مظلوم بن کرووٹ لینے کا حربہ استعمال کر یں گے۔

اے آر وائی نیوز: فوجی عدالت کے قیام اورتوسیع کے معا ملے پر آپ کیا کہنا چا ہیں گے ؟

نبیل گبول : میں جمہو ریت پسند ہوں مگرجس نام نہاد جمہوریت میں جمہورکوخطرات لاحق ہو تو ایسی جمہوریت کا کیا فائد ہ !!! فوجی عد التوں کا قیام دہشت گردی کے خلاف مثبت اقدام ہے اس میں تو سیع ہونا چا ہیے۔

اے آر وائی نیوز: آپ نے کچھ لمحے قبل پیپلز پارٹی ری جوائن کرنے کا عندیہ دیا مگرآپ ملٹر ی کورٹس کے حق میں ہیں جبکہ آصف   زرداری شدید مخالف ہیں ایسے میں کام کیسے ہوگا؟ 

نبیل گبول : بس اس وجہ سے ہی پیپلز پارٹی میں تاحال شمولیت اختیار نہیں کی ہے‘ دیکھیں مستقبل میں کیا ہوتا ہے۔

nabel-gabol-post-3

اے آر وا ئی نیوز: متحد ہ قومی مو ومنٹ پاکستان کا کیا مستقبل ہو گا ؟

نبیل گبول : ساری صورت حال الیکشن پر وا ضح ہو گی. مجھے اردو اسپیکنگ کا ووٹ بینک ٹوٹتا نظر آ رہا ہے۔ کراچی کی سیٹیں مختلف حصو ں میں تقسیم ہوں گی اگرچہ فاروق ستار کو کسی حد تک کامیابی نصیب ہوگی۔

اے آر وائی نیوز: آ پ کے کہنے کا مطلب ہے کہ مصطفی کمال کے ہاتھ کچھ نہیں آئےگا؟

نبیل گبول : نہیں! وہ ماموں بن گئے ہیں۔

اے آر وائی نیوز: کیسے ؟

نبیل گبول : ان کو یہ کہہ کر لایا گیا تھا که بانی ایم کیو ایم دنیا سے کوچ کرنے والے ہیں تم آ کرایم کیو ایم کی باگ ڈور سنبھالو‘ مگر ایسا نہیں ہوا۔

اے آر وائی نیوز: اگر آپ ایم کیو ایم میں ہی ہو تے تو پاکستان کے ہو تے یا لندن کا ساتھ دیتے ؟

نبیل گبول : ایم کیوایم کی سیاست لسانیت پرانحصارکرتی ہے. مجھے کراچی کے عوام کے ساتھ ساتھ پورے ملک کے عوام کے ساتھ رہنا ہے۔ ایم کیو ایم چھو ڑنے کی وجہ بھی یہی تھی۔ ان سب کی سوچ کراچی سے شروع ہو کرکراچی پرختم ہوجاتی ہے۔

اے آر وائی نیوز : 21 جنو ری کو ایم کیو ایم لندن استحکام پاکستان کے حو الے سے ر یلی نکا لنے کا ار ا دہ رکھتی ہے تو کیا ایم کیو ایم لندن کے قا ئد کو کراچی کی سیاست میں انٹر ہونے کا ایک مر تبه پھر مو قع ملے گا ؟

نبیل گبول : متحدہ کے قائد کا باب اب بند ہو چکا ہے۔ 21 جنوری کو نہ ریلی ہو گی ، نہ خطاب۔ ان کی 22 اگست کی تقریران کو لے ڈوبی اب ان کا مزید بولنا خود ان کے اپنے لئے بہتر نہیں ہے۔ اگر وہ ریاست اوراداروں کے خلاف نہیں جاتے تو یہ صورتحال رونما ہو سکتی تھی مگر اب میرا نہیں خیال کہ ایسا ممکن ہے۔

اے آر وائی نیوز: کیا عشرت البعاد کی واپسی ممکن ہے ؟

نبیل گبول : وہ نگر ان وزیراعظم بن کر واپس آئیں گے۔ میرے پاس ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ وہ ایم کیوایم پاکستان اورپی ایس پی کے سربراه کی ذمہ داری بھی سنبھال سکتے ہیں۔ بہرحال سابق گورنرکراچی کے سیاسی انتشار کو کنڑول کرنے جلد وطن واپس آنے والے ہیں۔

اے آر وائی نیوز: اس قسم کی قیاس آ رائیاں تو پرو یز مشر ف کے لئے بھی تھیں ؟

نبیل گبول : پرویز مشرف کو صر ف کراچی کی سیا ست نہیں کرنی ہے۔ وه پاکستان لیول پرسیا ست کرنا چا ہتے ہیں . لہذا ان کا مشکل ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top