ہفتہ, اپریل 11, 2026
اشتہار

ویڈیو: کیا نیٹ فلیکس لیاری پر سیریز بنانا چاہتا ہے؟ نبیل گبول سے لیاری اور دھرندھر پر گفتگو

اشتہار

حیرت انگیز

لیاری اور سیاست کا تعلق گہرا اور پیچیدہ ہے، لیکن آج کل دھرندھر فلم کی وجہ سے لیاری کے چرچے ہو رہے ہیں۔ لیاری کی کہانی سے جڑی بھارتی فلم دھرندھر پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے کہ اس میں حقائق کو تبدیل کر کے پیش کیا گیا۔ اس فلم کے ایک زندہ کردار نبیل گبول بھی ہیں۔ اس ویڈیو میں نبیل گبول نے فلم اور رحمان بلوچ سے متعلق بہت دل چسپ حقائق بتائے ہیں۔

انھوں نے بتایا ’’فلم میں لیاری کو منفی دکھایا گیا ہے، میرا کردار بڑا کمزور دکھایا گیا ہے، حالاں کہ میرا کردار دبنگ تھا، گینگ کے خاتمے میں نے بھرپور کردار ادا کیا تھا۔ اور لیاری میں اصل گینگ 2009 میں رحمٰن ڈکیت کے بعد بنا۔‘‘

انھوں نے کہا ’’رحمٰن بلوچ کو لیاری نے دھوکا نہیں دیا، ان کا چوہدری اسلم اور حکومت سے مسئلہ تھا، چوہدری اسلم کے مطابق حکومت نے رحمٰن کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور انھیں ہدایات دی گئیں۔‘‘ نبیل گبول نے کہا ’’میں نے تو رحمٰن ڈکیت کو راضی کر لیا تھا کہ وہ سرنڈر کر کے اپنے خلاف ایف آئی آرز کو کلیئر کرے۔‘‘

’’میں نے اس سے کہا تھا لیاری میں گولی چلی تو آپ ذمہ دار ہوں گے۔ رحمٰن نے ایکشن لیا، ایسا کوئی بھی واقعہ ہوتا تو رحمٰن اس لڑکے کو پولیس کے حوالے کر دیتا تھا۔ فلم میں جو دہشت دکھائی گئی رحمٰن کی ویسی دہشت نہیں تھی۔ اکشے کھنہ کو لیاری کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ وہ اسی کی وجہ سے مشہور ہو گیا۔ میں لیاری کا اہم کردار تھا، ایک کامیڈین سے میرا کردار ادا کروا کے زیادتی کی گئی۔‘‘

دھرندر 2 بنانے کا اعلان، ریلیز کی تاریخ بھی سامنے آگئی

نبیل گبول نے بتایا ’’رحمٰن ڈکیت کے زمانے میں لیاری میں دہشت نہیں تھی، لیکن اس کے بعد سر کاٹ کر فٹ بال کھیلا گیا، کلاکوٹ کے علاقے میں میں خود دیکھا ایک بچے کا سر کاٹ کر گلیوں میں گھمایا گیا۔‘‘

انھوں نے بتایا ’’نیٹ فلیکس کے پروڈیوسر کی میرے پاس کال آئی، انھوں نے کہا وہ لیاری پر سیریز بنانا چاہتے ہیں۔ اس سیریز میں میرا کردار مرکزی ہے۔ میرے کردار کے لیے نارکوس میں پابلو ایسکوبار کا کردار ادا کرنے والے میکسیکن اداکار کو چنا گیا ہے کیوں کہ اس کی شکل مجھ سے ملتی ہے۔ ٹیم مارچ میں پاکستان آ رہی ہے۔‘‘

نبیل گبول کہتے ہیں کہ انھیں کھانے میں باربی کیو بنانا آتا ہے، کیوں کہ گینگ وار کے زمانے میں وہ پہاڑوں پر ملاقاتیں کرتے تھے اور خود باربی کیو بناتے تھے۔ رحمٰن ڈکیت کے ساتھ میں لیاری کے ہوٹلوں کی چائے پیتا تھا۔ اسے دودھ پتی چائے پسند تھی۔ رحمٰن بلوچ کے ساتھ بیٹھ کر کبھی نہیں لگا کہ وہاں کوئی کرمنل بیٹھا ہوا ہے۔

+ posts

اہم ترین

مزید خبریں