The news is by your side.

Advertisement

نیب کے شہید افسرکی بیٹی کا چیف جسٹس کے نام دل دہلادینے والاخط

اسلام آباد : نیب  کے شہیدافسر کامران فیصل کی بیٹی نے چیف جسٹس آف پاکستان کے نام کھلے خط میں انصاف کی اپیل کی ہے اور کہا کہ زینب تو ایک بار مرچکی ہے لیکن آپ کی یہ بیٹی روز جیتی اورمرتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق شہید نیب افسر کی بیٹی ایمن نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کے نام کھلا خط لکھا ، جس میں مرحوم کامران فیصل کی بیٹی ایمن نےانصاف کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ زینب تو ایک بار مرچکی ہے لیکن آپ کی یہ بیٹی روز جیتی اور مرتی ہے۔

ایمن فیصل نے اپنے خط میں کہا ہے کہ میرے بابا کو پانچ سال پہلے قتل کیا گیا تھا، جس وقت میرے والد کو شہید کیا گیا اس وقت میں نرسری کلاس میں تھی اور آج فور کلاس میں ہوں ، کیس کی فائل کسی سردخانے میں پڑی ہے، جےآئی ٹی رپورٹ 2013 میں سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی لیکن آج تک میرے بابا کے کیس کی باری نہیں آئی۔

شہید نیب افسر کی بیٹی کا خط میں کہنا تھا کہ میرے والد کو کرپشن کے خلاف جنگ کی پاداش میں قتل کیا گیا ، میرے والد سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف 100 ارب روپے سے زائد کرپشن کیس پر دھمکیوں کو خاطر میں نہیں لاتے تھے‌‌‌۔

ایمن نے چیف جسٹس سے اپیل کی کہ جیسے آپ نے ننھی زینب کے قاتلوں کو کو نشان عبرت بنانے کے عندیہ دیا تب سے مجھے بھی امید ہوئی کہ آپ میرے بابا کے قاتلوں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لائیں گے۔

خط میں ایمن نے مزید کہا کہ میرے والدہ نے مجھے بتایا کہ تمہارے ابو کو شہادت کے وقت اس وقت کے لوگوں نے خود کشی کا نام دیا لیکن فرانزک رپورٹ نے قبر کشائی کے بعد اعتراف کیا کہ میرے والد کو قتل کیا گیا، چیف جسٹس سے اپیل کرتی ہوں کہ اگر یہ ظالم آپ سے زیادہ مضبوط ہیں تو پھر اگلا خط میں اللہ کی عدالت میں لے جاؤں گی۔

یاد رہے کہ جنوری 2013 کو قومی احتساب بیورو کے اسٹنٹ ڈائریکٹر کامران فیصل وفاقی دارالحکومت میں اپنی سرکاری رہائش گاہ پر مردہ پائے گئے تھے۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کامران فیصل موت کو خودکشی ہی قرار دیا گیا تھا۔

کامران فیصل رینٹل پاور کیس کی تحقیقات کررہے تھے اور رینٹل پاور میں کرپشن کے حوالے سے سپریم کورٹ نے نیب کی رپورٹ پر وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف سمیت 16 اہم ملزموں کی گرفتاری کا حکم دے رکھا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں