The news is by your side.

Advertisement

وفاداریاں تبدیل کرانے کیلئے دباؤ ڈالاجارہا ہے، ثبوت موجود ہیں، ندیم نصرت

لندن : متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے کنوینئر ندیم نصرت نے کہا ہے کہ ملکی حالات کا تقاضا ہے کہ منفی سیاست کو مسترد کیا جائے۔ خفیہ اداروں کے بعض لوگ وفاداریاں تبدیل کرانے کے لئے ایم کیو ایم رہنماﺅں پر دباﺅ ڈال رہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے لندن سے براہ راست ویڈیو لنک کے ذریعے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، ندیم نصرت نے کہا کہ جن پر متحدہ کے قائد نے احسان کیا وہی شر انگیزی کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں کسی ادارے پر الزام نہیں لگا رہا لیکن خفیہ اداروں کے بعض لوگ بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اپنے عہدوں کو استعمال کر کے وفا داریاں تبدیل کرائیں ،یہ ایسی حقیقت ہے جس کے ثبوت موجود ہیں۔

جنرل راحیل شریف سے سے اپیل ہے کہ اس کام کو بند کرائیں، انہوں نے کہا کہ اگر جنرل راحیل شریف ایم کیو ایم کے وفد سے ملاقات کریں تو ان کو وفاداریاں تبدیل کرانے کے لئے دباؤ ڈالنے کے شواہد پیش کئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کے کچھ لوگ دباﺅڈالنے کی کوشش کریں تو اس کا نقصان انہیں نہیں بلکہ ملک کو ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ آج اشفاق منگی سے پریس کانفرنس کروائی گئی جب وہ ایم کیو ایم میں تھے تو دہشت گرد ، بھتہ خور اور اب نہیں رہے۔ آج احساس محرومی ختم کرنے کے بجائے متحدہ پر الزام لگائے جا رہے ہیں۔

ندیم نصرت نے کہا کہ وہ محب وطن عوام آرمی چیف سے اپیل کرتے ہیں کہ خدارا مہاجروں کوانصاف دلوائیں، انہوں نے کہا ماضی میں بھی ایم کیو ایم پر الزامات لگائے گئے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عوام ایم کیو ایم کو بار بار ووٹ کیوں دیتے ہیں۔ ایم کیو ایم کو پروپگنڈے کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا،

انہوں نے کہا کہ حقائق کو مسخ نہ کیا جائے, 2013 سے لیکر اب تک 6 ہزار کارکن گرفتار، ہزاروں کے گھر چھاپے مارے گئے۔ کیا چھاپوں کے دوران کوئی پولیس مقابلہ ہوا۔ یہ کیسے ’’ را‘‘ کے ایجنٹ تھے کوئی مقابلہ نہیں ہوا؟۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ پاکستان کے آئین کو تسلیم نہیں کرتے اور طالبان کو شہید کہتے ہیں ان کیخلاف کوئی ایکشن نہیں ہوتا۔ طاقت کے زور پر وفاداریاں تبدیل کرائی جا رہی ہیں یہ سب کون ہیں ثبوت موجود ہیں اور خیابان سحر سے کارکنوں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ تمام تر اشتعال انگیزی کے باوجود صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑیں گے۔

ندیم نصرت نے کہا ایم کیو ایم پر لگائے جانے والے تمام الزامات رد کرتا ہوں اس زیادتی کو بند کرنا پڑے گا اور لوگوں کو وفاداریاں تبدیل کرنے پر مجبور نہ کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا متحدہ قائد کی تقاریر پر پابندی ختم کی جائے۔

 

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں