بدھ, فروری 11, 2026
اشتہار

"قیصر صاحب! ہم ایک دوسرے کے لیے نامحرم ہیں۔”

اشتہار

حیرت انگیز

اردو زبان میں ادیب و شعرا اور دیگر اہلِ قلم کے تذکرے پر مبنی کتابوں میں ہمیں کئی اہم اور یادگار واقعات کے ساتھ حسین یادیں اور دل چسپ باتیں پڑھنے کو ملتی ہیں۔ پُرسہ ایسی ہی کتاب ہے جس میں قیصرالجعفری کا ایک قصّہ ان کے دوست اور کتاب کے مصنّف ندیم صدیقی نے رقم کیا ہے۔ قیصر الجعفری بھارت کے معروف شاعر اور ادیب تھے جن کی مشہور غزل کا یہ مطلع آپ نے بھی سنا ہوگا۔

دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہے
ہم بھی پاگل ہو جائیں گے ایسا لگتا ہے

ندیم جعفری کی کتاب سے اقتباس ملاحظہ کیجیے:
ہم بے تکلف ضرور تھے مگر بد کلامی سے ہمارا کوئی علاقہ نہیں رہا۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم نے کلمۂ بد قیصر الجعفری کی زبان سے کبھی سنا ہی نہیں۔ ایک وقت (1977 میں) وہ بھی آیا کہ جب اُن کے دوسرے شعری مجموعے سنگ آشنا کا اجرا بزمِ مساوات کے زیر اہتمام بھیونڈی میں طے پایا۔ بزمِ مساوات کے صدر مرتضی رنگین نے اپنی تمام رنگینیِ ذوق کو اس تقریب اجرا میں بکھیر دیا تھا۔ سنگ آشنا کا اجرا ڈاکٹر ظ انصاری کے ہاتھوں ہوا تو اس موقع پر ہونے والے مشاعرے میں عزیز قیسی بھی آئے، حسن کمال نے بھی شرکت کی اور اس حقیر کو بھی اس مشاعرے میں یاد کیا گیا۔ پھر اُن سے ملاقاتیں ہوتی رہیں اور قربتیں بڑھتی رہیں۔ موصوف کے تیسرے شعری مجموعے دشتِ بے تمنا کی اشاعت زیرِ غور تھی تو انھوں نے اس کتاب کے اہتمام و انصرام کی ذمے داری ندیمِ احقر کے کاندھوں پر ڈال دی۔ ہم نے اس ذمے داری کا حق ادا کرنے کی اپنی سی کوشش کی۔

ہم نے سر جھکا کر مسودہ لے لیا اور دو راتوں میں اسے بغور پڑھا۔ جب وہ ایک دن گھر پر آئے تو ہم نے اس مطلع کی جانب اُن کی توجہ مبذول کرائی کہ

ازل سے جا رہا تھا میں ابد کی سَیر کے لیے
ٹھہر گیا زمین پر بھی تھوڑی دِیر کے لیے

پہلے تو وہ خاموش رہے، پھر کہنے لگے: اس میں کیا بات ہے؟ مطلع تو صاف ہے۔

ہم نے کہا، اس مطلع کے قافیے ہائے جعفری، ہائے جعفری کی صدا لگاتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ "قیصر صاحب! ہم ایک دوسرے کے لیے نامحرم ہیں۔”

ہم نے کہا: مطلع کے پہلے مصرعے میں لفظ سیر کی "س پر زبر ہے، قافیے کا حرف اوّل یعنی "س” مفتوح ہے اور آپ نے دوسرے مصرعے میں لفظ دِیر کو قافیہ بنایا ہے۔ جس کا "د” حرفِ مکسور ہے۔ جو پہلے مصرعے کے قافیے کی نفی کر رہا ہے۔

قیصر الجعفری نے ایک لمحے توقف کیا اور مسکرا کر کہا: "واہ میاں، لوگ تو قافیہ ملاتے ہیں آپ نے تو قافیہ ہی اڑا دیا۔ دراصل ندیم میں نے پوری غزل میں اس طرح کے قوافی کا التزام کیا ہے۔ ان کے جواب میں لفظ "التزام” پر ہمارے نفسِ علمی نے سَر اٹھایا تو ہم نے ذرا تیز لہجے میں کہا:

جعفری صاحب! التزام۔۔۔ حسن کا ہوتا ہے عیب کا نہیں۔ یہ سقم اہلِ فن کے یہاں "اِقوا” سے موسوم ہے۔

قیصر الجعفری: ارے بھئی کیوں خون جلاتے ہو۔ میں قافیہ بدل دوں گا۔ پھر ہم دونوں نے چائے کی پیالی میں اس لفظی تلخی کو گھول کر پی لیا۔ مگر افسوس کہ جب یہ کتاب چھپ کر آئی تو اس مطلع میں اقوا اسی طرح باقی رہا۔ پتہ چلا کہ کاتب نے صاحبِ کتاب کی ہدایت سنی ان سنی کر دی۔ اس غزل کا یہ شعر اکثر سخن فہموں کو یاد ہے:

میں صبحِ کائنات کی صدائے بازگشت ہوں
ہزار بار آؤں گا دعائے خیر کے لیے

قیصر الجعفری کے سیر اور دیر نے کچھ اور بھی یاد دلا دیا۔ اختر الایمان کی ایک مشہور نظم کا پہلا مصرع ہے:

اٹھاؤ ہاتھ کہ دستِ دعا بلند کریں

غور کریں کہ جب ہاتھ اٹھا لیے گئے تو پھر دستِ دعا بلند کرنا چہ معنی؟ عجب حشو ہے۔ شاعر جو بات کہنا چاہتا ہے بڑی آسانی سے یوں کہہ سکتا تھا: اٹھاؤ ہاتھ کہ حرفِ دعا بلند کریں

یہاں یہ بات واضح رہے کہ کسی کی چند غلطیوں سے اس کا پورا کلام مسترد کر دیا جائے یہ بے وقوفی کی بات ہوگئی۔ قیصر الجعفری کے ہاں قافیے کی غلطی یا اختر الایمان کے مصرعے میں ہاتھ اٹھانے کے بعد دستِ دعا بلند کرنا کی طرف ہمارا اشارہ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ یہ حضرات ان غلطیوں کو نہیں سمجھ سکتے تھے۔ افسوس اس کا ہے کہ کسی ناقد نے اس طرف آخر توجہ کیوں نہیں کی؟

بات سے بات نکلتی ہے، ایک واقعہ اس ممبئی کا ہے، وہ بھی ملاحظہ کریں:
حضرت جگر مراد آبادی نے کسی پرائیویٹ نشست میں غزل کا جب یہ شعر پڑھا:

آجاؤ کہ اب خلوتِ غم خلوتِ غم ہے
اب دل کے دھڑکنے کی بھی آواز نہیں ہے

تو محفل میں بیٹھے ہوئے جمیل مہدی نے باآوازِ بلند کہا کہ جگر صاحب اسے تو خواجہ عزیز الحسن مجذوب بہت پہلے کہہ چکے ہیں اور جمیل مہدی نے فوراًَ خواجہ مجذوب کا مشہورِ عالم مطلع پڑھ دیا:

ہر تمنا دل سے رخصت ہوگئی
اب تو آجا اب تو خلوت ہوگئی

اس واقعے کے چشم دید گواہ ہمارے والد محترم جمیل مرصع پوری بتاتے ہیں کہ جگر صاحب نے اس محفل میں دوبارہ اپنا یہ شعر نہیں پڑھا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں نہ تو جمیل مہدی نے پھر یہ بات دہرائی اور نہ ہی حضرت جگر نے جمیل مہدی کے ٹوکنے کا برا مانا۔ بے شک دونوں اشعار اپنے موضوع کی یکسانیت کے باوجود لفظ و بیان کی سطح پر الگ ہی ہیں اور جگر جیسے شاعر پر کوئی الزام لگانا زیادتی ہوگی۔ دراصل ہمارے ہاں سرقہ یا توارد کی بنیاد صرف لفظوں میں دیکھی جاتی ہے۔ خیال یا فکر کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے جب کہ شعر کی اساس تو خیال اور فکر ہی میں مخفی ہوتی ہے۔

جمیل مہدی اور جگر صاحب کا یہ واقعہ جب بھی ذہن میں آتا ہے تو ادب کے تئیں دونوں حضرات کے اخلاص پر رشک کی تصویر بن جاتی ہے۔ کیسے عالی ظرف لوگ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ نے ان پر اپنے در وا کر دیے۔

+ posts

اہم ترین

مزید خبریں