The news is by your side.

Advertisement

خواتین خوف زدہ نہ ہوں، چاقو مار کو گرفتار کرکے فوری سزاے موت دی جائے، نادیہ حسین

کراچی : شہر قائد میں چھرا مار گروپ کیخلاف معروف ماڈل نادیہ حسین میدان میں آگئیں اور کہا کہ خواتین پر حملوں کے ملزم کو سزائے موت دی جائے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں چاقو مار گروپ کی پہ در پہ کاروائیوں پر معروف ماڈل نادیہ حسین نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو خوف طاری نہیں کرنا چائیے اور ملوث فرد کو فوری گرفتار کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان ہے کہ اب تک اس کو گرفتار کیوں نہیں کرپائی ہے۔

خواتین کو حوصلہ بڑھاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ بلکل بھی نہ گھبرائیں انہوں نے کہا کہ چاقو مار کو فوری گرفتار کرکے فوری سزاے موت دی جائے۔

دوری جانب خواتین کا کہنا ہے کہ آخر ایک چھلاوے کے آگے پولیس کیوں بے بس ہوگئی ہے، اس کو جلد سے جلد گرفتار کیا جائے ورنہ خواتین کا گھروں سےنکلنا مشکل ہوجائے گا۔


مزید پڑھیں : چاقو بردار ملزم سرگرم، تین گھنٹے کے دوران پانچ خواتین پر وار


یاد رہے کہ کراچی میں خواتین پر حملے شروع ہوئے بارہ دن گزر گئے، اور اب تک 15 خواتین کو حملوں میں زخمی کیا جاچکا ہے جن میں سے بیشتر کے جسم پر ٹانکے آئے ہیں۔

پولیس نے اس سلسلےمیں 16 مشکوک افراد کو حراست میں لیاتھا تاہم اس کے بعد بھی ان واقعات کا سلسلہ جاری ہے‘ پولیس کو شک ہے اس واقعے میں کوئی ایک شخص نہیں بلکہ پورا گروہ ملوث ہے۔

واضح رہے کہ سنہ 2013 میں چیچہ وطنی میں اسی نوعیت کے واقعات پیش آئے تھے جب چیچہ وطنی میں وسیم ملاح نامی ایک ذہنی بیمار شخص نے 207 خواتین کو چاقو کے وار کرکے زخمی کیا تھا‘ پولیس کی جانب سے گھیرا تنگ کیے جانے پر اس نے ساہیوال کا رخ کیا اور یہاں بھی اسی نوعیت کی 36 وارداتیں کی تھیں۔


مزید پڑھیں : خواتین پر چاقو کے وار، کیا ساہیوال کے ملزم نے کراچی کا رخ کرلیا ؟


پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد عدالت نے اسے ذہنی مریض ہونے اور خواتین کو معمولی زخمی ہونے کی بنا پر محض آٹھ ماہ کی سزا سنائی تھی۔

کراچی پولیس نے ان خطوط پر کام کرتے ہوئے جب وسیم کے گھر کا رخ کیا تو معلوم ہوا کہ اس کے گھر والوں کو بھی نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہے اور کس شہر میں رہ رہا ہے‘ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ کراچی میں خواتین پر ہونے والے حملوں میں یہ شک بھی ملوث ہوسکتا ہے


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں