The news is by your side.

Advertisement

چیف جسٹس آف کے احکامات، خواجہ سراؤں کے شناختی کارڈز بننے کا عمل شروع

لاہور : چیف جسٹس آف پاکستان کے احکامات پر نادرا نے خواجہ سراؤں کے شناختی کارڈز بنانا شروع کر دیئے، لاہور کے فاونٹین ہاﺅس میں نادرا کی جانب سے موبائل وینز مختص کردی گئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کے ازخود نوٹس لینے کے بعد نادرا نے خواجہ سراﺅں کے شناخی کارڈ بنانے کا عمل شروع کردیا ہے، خواجہ سراؤں کے شناختی کارڈز بنانے کے لئے نادرا کی موبائل وین فاؤنٹین ہاؤس پہنچ گئی۔

نادرا ٹیم کے مطابق خواجہ سرا موبائل وین سے 30 جون تک شناختی کارڈ بنوا سکتے ہیں، فاؤنٹین ہاؤس میں رجسٹرڈ خواجہ سراؤں کی تعداد 75 سے زائد ہے۔

فاؤنٹین ہاؤس انتظامیہ کے مطابق خواجہ سراؤں کو میڈیکل کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے میڈیکل کیمپ بھی لگا دیا گیا ہے، جہاں خواجہ سراؤں کو مفت معائنہ اور ادویات کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

فاؤنٹین ہاؤس کی جانب سے رجسٹرڈ خواجہ سراؤں کو ماہانہ وظیفہ بھی دیا جاتا ہے۔


چیف جسٹس نے خواجہ سراؤں کو شناختی کارڈ کی فراہمی کے لیے کمیٹی قائم کردی


یاد رہے کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے خواجہ سراؤں کو 15 دن میں شناختی کارڈ کی فراہمی کے لیے کمیٹی قائم کی تھی اور کہا تھا کہ خواجہ سراؤں کے لیے ایسا نظام بنائیں گے ان کو حق دہلیز پر ملے۔

قبل ازیں فاونٹین ہاؤس کے دورے کے دوران خواجہ سراؤں نے چیف جسٹس سے نوٹس لینے کی اپیل کی تھی اور بتایا کہ پاکستانی شہری ہونے کے باوجود ان کو بنیادی حقوق حاصل نہیں نادرا انہیں شناختی کارڈ جاری نہیں کر رہا۔

جس کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان نے خواجہ سراؤں کے شناختی کارڈ نہ بنانے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب، متعلقہ افسران اور اخوت فاونڈیشن کے چیئرمین کو طلب کر لیا تھا۔

واضح رہے کہ انتخابات 2018 کے کاغذات نامزدگی وصول کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کے علاوہ پہلی بار خواجہ سرا بھی فارم وصول کرنے کے لیے ریٹرننگ آفیسرکے پاس پہنچے تھے ۔ تاہم نامزدگی فارم میں خواجہ سراؤں کے لیے الگ خانہ نہ ہونے سے بھی انہیں شدید مایوسی ہوئی تھی ، کیونکہ قانون کے مطابق اب یہ ان کا حق ہے کہ وہ الیکشن میں حصہ لے سکیں اور ووٹ کاسٹ کرسکیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں