بدھ, اپریل 15, 2026
اشتہار

نادرا کا قومی شناختی نظام کی درستی اور سالمیت کو یقینی بنانے کیلیے اہم اقدام

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد (11 مارچ 2026): نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی آرڈیننس 2000 کے سیکشن 7(b)(ii) اور سیکشن 21 اور نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نیشنل آئیڈینٹی کارڈ) رولز 2002 کے قواعد 16 اور 17 کے تحت اپنے قانونی فرائض کی ادائیگی کرتے ہوئے پورے ملک میں سول رجسٹریشن ریکارڈز اور قومی شہری ڈیٹا بیس کے درمیان مطابقت (reconciliation) کا عمل مکمل کیا ہے تاکہ پاکستان کے قومی شناختی نظام کی درستی اور سالمیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

نادرا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ قانونی فریم ورک کے تحت نادرا قومی شہری ڈیٹا بیس کو اہم زندگی کے واقعات یعنی پیدائش، وفات، شادی اور طلاق سے متعلق معلومات کے ذریعے مسلسل اپ ڈیٹ کرتا ہے۔ یہ معلومات صوبائی اور مقامی حکومتوں کے سول رجسٹریشن مینجمنٹ سسٹمز (CRMS) سے حاصل کی جاتی ہیں۔ یہ واقعات عام طور پر یونین کونسلز، ٹاؤن کمیٹیوں اور کینٹونمنٹ بورڈز جیسے مقامی سول رجسٹریشن اداروں میں متعلقہ افراد کے خون کے رشتہ داروں کی جانب سے رپورٹ اور رجسٹر کرائے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نادرا نے متوفی شہریوں کے 42 لاکھ شناختی کارڈ منسوخ کر دیے

بیان میں کہا گیا کہ اسی عمل کے تحت نادرا نے ایسے افراد کے تقریباً 42 لاکھ کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs) منسوخ کر دیے ہیں جنہیں صوبائی سول رجسٹریشن سسٹمز میں پہلے ہی متوفی کے طور پر درج کیا جا چکا تھا۔ متعدد معاملات میں اگرچہ خاندانوں نے اموات کا اندراج تو کروا دیا تھا، تاہم بعد ازاں متوفی افراد کے شناختی کارڈ کی منسوخی کے لیے درخواست جمع نہیں کرائی گئی، جس کے نتیجے میں سول رجسٹریشن ریکارڈز اور قومی شناختی ڈیٹا بیس کے درمیان عدم مطابقت پیدا ہو گئی۔

نادرا کے مطابق متوفی افراد کے شناختی کارڈ کی بروقت منسوخی کی حوصلہ افزائی کیلیے نادرا نے پہلے ہی اس عمل سے متعلق فیس معاف کر دی تھی اور متوفی کے شناختی کارڈ کو جمع کروانے کی شرط بھی ختم کر دی تھی۔ ان سہولیات کے نتیجے میں خاندانوں کی جانب سے تقریباً 30 لاکھ شناختی کارڈز رضاکارانہ طور پر منسوخ کرائے گئے۔ تاہم اس کے باوجود 42 لاکھ سے زائد شناختی کارڈز ایسے تھے جو سول رجسٹریشن سسٹمز میں وفات کے اندراج کے باوجود فعال رہے۔

مزید کہا گیا کہ قومی ڈیٹا بیس کی سالمیت کے تحفظ اور اس بات کو یقینی بنانے کیلیے کہ وفات کے بعد شناختی ریکارڈ کا کسی قسم کے غلط استعمال یا دھوکہ دہی کیلیے استعمال نہ ہو سکے، نادرا نے سول رجسٹریشن ریکارڈز کی تصدیق کے بعد ایسے شناختی کارڈز کو منسوخ کر دیا ہے۔

نادرا اس امر کو تسلیم کرتا ہے کہ بعض نادر حالات میں کسی رشتہ دار کی جانب سے غلطی یا بدنیتی پر مبنی طور پر موت کا اندراج بھی کرایا جا سکتا ہے۔ ایسے کسی بھی معاملے میں اگر کسی شہری کو متوفی ظاہر کیے جانے کے باعث اپنے شناختی کارڈ کی منسوخی کی وجہ سے دشواری کا سامنا ہو تو وہ قریب ترین نادرا رجسٹریشن سینٹر سے رجوع کر سکتا ہے۔ بائیومیٹرک تصدیق کے بعد شناختی کارڈ بغیر کسی فیس کے فوری طور پر بحال کر دیا جائے گا۔ متعلقہ شہری کو اس یونین کونسل، ٹاؤن کمیٹی یا دیگر مقامی ادارے کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں گی جہاں موت کا اندراج کیا گیا تھا، نیز اس رشتہ دار کی معلومات بھی فراہم کی جائیں گی جس کی رپورٹ پر یہ اندراج کیا گیا۔

اس کے ساتھ ساتھ نادرا نے پیدائش کے اندراج اور قومی شناختی نظام کے درمیان ربط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک قومی آگاہی مہم بھی شروع کی ہے۔ اس سلسلے میں نادرا نے تقریباً ایک کروڑ چالیس لاکھ بچوں کے والدین یا سرپرستوں کو ایس ایم ایس پیغامات بھیجنے کا عمل شروع کر دیا ہے جن کی پیدائش صوبائی یا مقامی حکومتوں کے سول رجسٹریشن سسٹمز میں تو درج ہے مگر انہیں ابھی تک نادرا کے قومی ڈیٹا بیس میں رجسٹر نہیں کیا گیا۔ والدین کو ترغیب دی جا رہی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی نادرا میں رجسٹریشن مکمل کریں تاکہ ان کے لیے چائلڈ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (CRC / ب فارم) جاری کیا جا سکے اور انہیں قومی شناختی نظام میں باضابطہ طور پر شامل کیا جا سکے۔

شہریوں کی مزید سہولت کے لیے نادرا جلد ہی چائلڈ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (CRC) کے اجرا کی سہولت اپنی نادرا ای سہولت فرنچائز نیٹ ورک کے ذریعے بھی فراہم کرنے جا رہا ہے، جس سے ملک بھر میں بچوں کی رجسٹریشن خدمات مزید آسان اور قابلِ رسائی ہو جائیں گی۔

نادرا پاکستان کے قومی شناختی نظام کی سالمیت، درستگی اور قابلِ اعتمادیت کو برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہے اور اس مقصد کے لیے صوبائی اور مقامی سول رجسٹریشن اداروں کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنا رہا ہے تاکہ زندگی کے اہم واقعات کا اندراج قومی ڈیٹا بیس میں بروقت اور درست انداز میں شامل کیا جا سکے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں