پیر, اکتوبر 12, 2026
اشتہار

یتیم اور لاوارث بچوں کو شناختی دستاویزات کے حصول میں شدید مشکلات

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی (24 فروری 2026): یتیم اور لاوارث بچوں کو شناختی دستاویزات کے حصول میں شدید مشکلات کے کیس میں سندھ ہائیکورٹ نے نادرا کو یونین کونسل اور سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کی مشاورت سے مکینزم بنانے کا حکم دیتے ہوئے 8 ہفتوں میں عمل درآمد رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔

سندھ ہائیکورٹ میں لاوارث اور یتیم بچوں کی رجسٹریشن اور قانونی شناخت سے متعلق لیگل ایڈ سوسائٹی نے درخواست دائر کر رکھی ہے، آج منگل کو کیس کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ رجسٹرڈ یتیم خانوں میں مقیم لاوارث بچوں کو والدین کی تفصیلات اور قانونی دستاویزات جاری کی جائیں، کسی بھی انتظامی رکاوٹ کے باعث یتیم اور لاوارث بچوں کو اس حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔

بیرسٹر سیف اکبر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ یتیم اور لاوارث بچوں کی رجسٹریشن کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کو شناختی دستاویزات کے حصول میں شدید مشکلات ہیں، لاوارث بچوں کا نگران ریاست کو ہونا چاہیے۔

وکیل درخواست گزار بیرسٹر فرح خان نے رجسٹریشن اور شناختی دستاویزات کے مسئلے کی سنگینی سے متعلق کہا کہ تمام یتیم خانوں کی رجسٹریشن ہونی چاہیے تاکہ معلوم ہو سکے کتنے بچے موجود ہیں، کیوں کہ بچوں کی اسمگلنگ اور لاشیں ملنے کے واقعات سامنے آتے ہیں۔

عدالت نے وکیل کو 6 ماہ قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی

بیرسٹر سیف اکبر نے کہا کہ غیر رجسٹرڈ یتیم خانوں میں موجود بچوں کی ولدیت میں اپنی مرضی سے نام لکھ دیے جاتے ہیں، ایسی صورت حال میں شناختی کارڈ بنانے یا تجدید میں شدید مسائل سامنے آتے ہیں، اور شناختی دستاویزات نہ ہونے سے لاوارث بچوں کو تعلیم اور نوکری کے حصول میں مشکلات ہوتی ہیں۔

عدالت نے سوشل ویلفیئر حکام سے استفسار کیا کہ یتیموں کے لیے کوئی پالیسی نہیں ہے، یتیموں کے ساتھ کیا کرتے ہو؟ جسٹس عدنان الکریم میمن نے کہا کہ قرآن میں یتیموں اور مسکینوں کا خیال رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر نے کہا کہ صوبے میں 39 دارالاطفال ہیں سکھر میں ایک دارالاطفال ہے۔

جسٹس ذوالفقار علی سانگی نے کہا کہ آپ کو کچھ نہیں معلوم، سکھر میں 3 یتیم خانے تو ہماری معلومات میں ہیں، عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نام سوشل ویلفیئر ہے، سوشل ویلفیئر کا کام کب کرتے ہو۔

وکیل نادرا نے کہا کہ نادرا پالیسی کے تحت پیدائش کے سرٹیفکیٹ کے لیے حلف نامے اور ادارے کے سربراہ کی تصدیق درکار ہوتی ہے۔ جسٹس عدنان الکریم میمن نے کہا کہ آپ کی پالیسی قانون کے خلاف ہے۔ جسٹس ذوالفقار علی سانگی نے کہا کہ کچھ عرصے بعد آپ کہیں گے 40 سال پرانا ریکارڈ لے کر آؤ۔

عدالت نے کہا کہ کسی بھی طبقے کو قومی ڈیٹا بیس سے خارج نہیں رکھا جا سکتا، نادرا دیگر حکام سے مل کر لاوارث بچوں کی رجسٹریشن کے لیے یکساں طریقہ کار وضع کرے، ایسا مکینزم بنایا جائے جو بچوں کے حقوق سے ہم آہنگ ہو۔

اہم ترین

اصغر عمر
اصغر عمر
اصغر عمر اے آر وائی نیوز سے بطور کورٹ رپورٹر وابستہ ہیں

مزید خبریں