اسلام آباد (16 جون 2026): نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے گلگت بلتستان میں پیدائش اور وفات کے اندراج کا طریقہ کار واضح کر دیا۔
نادرا کی طرف سے جاری تفصیلات کے مطابق پیدائش اور وفات کا بروقت اندراج ہر شہری کا قانونی حق اور بنیادی ضرورت ہے، درست سول رجسٹریشن نہ صرف شہریوں کی قانونی شناخت کو مستحکم بناتی ہے بلکہ قومی ریکارڈ کو مضبوط بناتی ہے اور شناختی کارڈ، پاسپورٹ، تعلیمی داخلوں، صحت کی سہولیات، وراثتی حقوق، پنشن، انشورنس، عدالتی امور اور دیگر سرکاری سہولتوں کے حصول میں بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
نادرا نے کہا کہ گلگت بلتستان میں پیدائش اور وفات کا اندراج متعلقہ یونین کونسل کے ذریعے کیا جاتا ہے اور اس کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ نظام میں محفوظ کیا جاتا ہے۔ اس کا تفصیلی معلوماتی کتابچہ اس لنک پر موجود ہے: https://www.nadra.gov.pk/assests/downloadsPdf/Birth_Death_Public_Guide_GB.pdf
پیدائش کا اندراج
- بچے کی پیدائش کا اندراج متعلقہ یونین کونسل میں کروایا جائے
- پیدائش کا اندراج 60 دن کے اندر کروانا ضروری ہے
- والدین، دادا، دادی، بہن بھائی یا دیگر مجاز قریبی رشتہ دار درخواست دے سکتے ہیں
ضروری دستاویزات
- شناختی کارڈ، متعلقہ فارم، اسپتال یا زچہ بچہ مرکز کا پیدائشی ریکارڈ، ویکسینیشن کارڈ یا دیگر دستیاب ثبوت پیش کیے جا سکتے ہیں
- گھر پر پیدائش کی صورت میں حلف نامہ اور گواہان کی تصدیق بھی درکار ہو سکتی ہے
- اندراج مکمل ہونے کے بعد پیدائش کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا جا سکتا ہے
- اگر پیدائش ضلع کی حدود سے باہر ہوئی ہو تو اضافی تصدیق، حلف نامہ، گواہان اور متعلقہ ثبوت فراہم کرنا ضروری ہو سکتا ہے
تاخیر سے اندراج
اگر پیدائش کا اندراج 60 دن کے اندر نہ کروایا جا سکے تو 61 دن سے 7 سال تک تاخیر کے کیسز متعلقہ یونین کونسل اتھارٹی کے ذریعے نمٹائے جاتے ہیں جبکہ 7 سال سے زائد تاخیر کی صورت میں عمر کے تعین کے لیے اضافی طبی اور قانونی کارروائی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
لاوارث یا بے سہارا بچوں کا اندراج
ایسے بچے جن کے والدین یا شناخت معلوم نہ ہو اور جو کسی یتیم خانے، فلاحی ادارے یا مجاز سرپرست کی تحویل میں ہوں، اُن کا اندراج قانونی طریقۂ کار کے مطابق مقررہ سرپرست کے ذریعے کروایا جا سکتا ہے۔
بیرون ملک پیدا ہونے والے پاکستانی بچے
پاکستانی شہری اپنے بیرون ملک پیدا ہونے والے بچوں کی پیدائش کا اندراج متعلقہ پاکستانی سفارت خانے، ہائی کمیشن یا قونصل خانے میں کروا سکتے ہیں۔ مقررہ مدت کے بعد اضافی تصدیقی کارروائی درکار ہو سکتی ہے۔ بعد ازاں متعلقہ یونین کونسل میں اندراج بھی کروایا جا سکتا ہے۔
وفات کا اندراج
- وفات کا اندراج 60 دن کے اندر متعلقہ یونین کونسل میں کروانا ضروری ہے
- اہل خانہ، گھر کا سربراہ یا دیگر مجاز قریبی رشتہ دار درخواست دے سکتے ہیں
- اسپتال میں وفات کی صورت میں متعلقہ طبی تصدیق جبکہ گھر میں وفات کی صورت میں حلف نامہ، گواہان اور دیگر شواہد طلب کیے جا سکتے ہیں
- اگر وفات ضلع کی حدود سے باہر ہوئی ہو تو اضافی دستاویزات اور تصدیقی کارروائی درکار ہو سکتی ہے
- اندراج مکمل ہونے کے بعد وفات کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا جا سکتا ہے
تاخیر سے اندراج
اگر وفات کا اندراج 60 دن کے اندر نہ کروایا جا سکے تو تاخیر سے اندراج کے لیے متعلقہ عدالت سے رجوع کرنا ضروری ہو گا۔
بیرون ملک وفات
اگر کسی پاکستانی شہری کا بیرون ملک انتقال ہو جائے تو متعلقہ ملک سے جاری شدہ وفات سرٹیفکیٹ اور پاکستانی سفارتخانے یا قونصل خانے کی تصدیق کے بعد متعلقہ یونین کونسل میں وفات کا اندراج کروایا جا سکتا ہے۔
نام کی درستی یا ریکارڈ میں تبدیلی
پیدائش یا وفات کے اندراج میں کسی بھی قسم کی تصحیح، تبدیلی یا منسوخی کے لیے متعلقہ رجسٹرار یا مجاز اتھارٹی کو درخواست اور مطلوبہ ثبوت فراہم کرنا ضروری ہیں جس کے بعد قانونی طریقہ کار کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے۔
اہم نوٹ: تاریخ پیدائش، تاریخ وفات، والد کا نام، جائے پیدائش اور بعض دیگر بنیادی معلومات عدالتی حکم کے بغیر تبدیل نہیں کی جا سکتیں۔
شہریوں کیلیے اہم ہدایات
- پیدائش اور وفات کا اندراج مقررہ مدت کے اندر ضرور کروائیں
- درخواست دیتے وقت شناختی کارڈ، مطلوبہ دستاویزات، حلف نامہ اور گواہان (جہاں ضروری ہوں) ساتھ رکھیں
- اندراج مکمل ہونے کے بعد متعلقہ سرٹیفکیٹ ضرور حاصل کریں
- پیدائش اور وفات کا بنیادی اندراج مفت ہے، تاہم سرٹیفکیٹ یا مصدقہ نقل کے اجرا پر مقررہ فیس لاگو ہو سکتی ہے
- تمام معلومات درست اور حقیقت پر مبنی فراہم کریں کیونکہ غلط معلومات یا جعلی دستاویزات قانونی کارروائی کا باعث بن سکتی ہیں
- رجسٹریشن دفاتر میں نمایاں طور پر آویزاں سرکاری فیس شیڈول سے رہنمائی حاصل کریں
نادرا کا کہنا ہے کہ پیدائش اور وفات کا بروقت اور درست اندراج ہر شہری کا قانونی حق اور بنیادی ضرورت ہے، درست رجسٹریشن آپ اور آپ کے خاندان کو شناختی دستاویزات، تعلیمی داخلوں، صحت کی سہولیات، وراثتی حقوق، پنشن، انشورنس، قانونی معاملات اور دیگر سرکاری سہولتوں کے حصول میں آسانی فراہم کرتی ہے، اپنے خاندان کے ہر اہم واقعے کا اندراج بروقت متعلقہ یونین کونسل میں ضرور کروائیں تاکہ آپ کا سرکاری ریکارڈ درست، محفوظ اور قابلِ اعتماد رہے۔


