اسلام آباد (13 فروری 2026): خواتین کا شادی کے بعد شناختی کارڈ میں اپنا نام تبدیل کروا کر والد کی جگہ شوہر کا نام لگانا درست فیصلہ ہے یا نہیں؟
ہمارے ملک میں خواتین کی اکثریت شادی کے بعد شناختی کارڈ میں اپنا نام تبدیل کروا لیتی ہیں اور والد کی جگہ شوہر کا نام درج کراتی ہیں۔ اس سے کیا فائدہ اور کیا نقصان ہوتا ہے، نادرا کے پبلک انفارمیشن آفیسر نے بتا دیا۔
نادرا کے پی آئی او سید شباہت علی سے ایک خاتون نے سوال کیا کہ انہوں نے شادی کے بعد شناختی کارڈ میں والد کی جگہ شوہر کا نام لکھوایا تھا، اب وہ دوبارہ والد کا نام لانا چاہتی ہیں تو کیا ایسا ممکن ہے۔
نادرا کے پی آئی او نے بتایا کہ تمام خواتین کا استحقاق ہے کہ وہ اپنے نام کے ساتھ والد کا نام رکھنا چاہتی ہیں یا شوہر کا۔ آپ اپنے شناختی کارڈ پر دوبارہ والد کا نام درج کرا سکتی ہیں، اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ آپ نادرا آفس آئیں یا پاک آئی ڈی سے یہ تبدیلی کرا لیں۔
تاہم سید شباہت علی نے عوام الناس بالخصوص خواتین کی آگہی کے لیے بتایا کہ جو خواتین شادی کے بعد اپنے ساتھ شوہر کا نام لکھوا لیتی ہیں، انہیں مستقبل میں بالخصوص تعلیم یا روزگار کے لیے بیرون ملک مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیونکہ آپ کی آدھی عمر کی اسناد میں نام کچھ اور آدھی میں کچھ ہوتا ہے۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ جو خواتین شادی کے بعد شناختی کارڈ میں اپنا نام تبدیل کراتی ہیں۔ بہتر ہے کہ وہ پیدائشی نام جو والد کے ساتھ ہوتا ہے، اسی کو جاری رکھیں کیونکہ نام کی تبدیلی سے بیرون ملک سفر مشکل ہوتا ہے۔ تاہم شوہر کے خانے میں شوہر کا نام درج کرا سکتی ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


