بدھ, فروری 11, 2026
اشتہار

ڈھائی ہزار کے لیے قتل، 15 سال بعد سپریم کورٹ نے نعیم ارشد عرف پپو کو بری کر دیا

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد (20 جنوری 2026): سپریم کورٹ آف پاکستان نے کپڑے کے بقایا 2500 روپے کے تنازع پر ہونے والے قتل کے کیس میں 15 سال بعد ملزم نعیم ارشد عرف پپو کو بری کر دیا۔

سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا 29 نومبر 2017 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، اور نعیم ارشد عرف پپو کو قتل کے الزام سے بری کر دیا ہے، عدالت نے ملزم کی فوری رہائی کا حکم دے دیا۔

جسٹس ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہوار اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل بینچ نے فیصلہ سنایا، ٹرائل کورٹ نے 2015 میں نعیم ارشد کو 25 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

سینیٹ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے 73 ارکان کی رکنیت بحال

سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شکایت کنندہ کی موقع پر موجودگی مشکوک ہے، واقعہ پیش آنے کے وقت مکمل اندھیرا تھا لیکن پھر بھی روشنی کے ذرائع کا ذکر نہیں کیا گیا، یہ واقعہ بیان کردہ انداز میں پیش نہیں آیا بلکہ معاملہ پراسرار ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا تفتیشی افسر کے مطابق فائر نعیم ارشد نے نہیں بلکہ شہباز علی نے کیا تھا، شہباز سے برآمد پستول سے موقع سے ملنے والا خول بھی میچ ہو گیا تھا، اور شہباز کو ٹرائل کورٹ پہلے ہی بری کر چکی ہے، اس کی بریت کے خلاف نہ ریاست نے اپیل کی نہ شکایت کنندہ نے چیلنج کیا۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ گواہوں کو عدالت میں پیش نہ کرنے پر استغاثہ کے خلاف منفی تاثر گیا ہے۔

+ posts

راجہ محسن اعجاز اسلام آباد سے خارجہ اور سفارتی امور کی کوریج کرنے والے اے آر وائی نیوز کے خصوصی نمائندے ہیں

اہم ترین

راجہ محسن اعجاز
راجہ محسن اعجاز
راجہ محسن اعجاز اسلام آباد سے خارجہ اور سفارتی امور کی کوریج کرنے والے اے آر وائی نیوز کے خصوصی نمائندے ہیں

مزید خبریں