The news is by your side.

Advertisement

لندن فلیٹ خریداری میں منی لانڈرنگ نہیں ہوئی ‘ نعیم بخاری

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں عمران خان کے وکیل نعیم بخاری کا کہنا ہےکہ لندن فلیٹس کےلیےڈاؤن پےمنٹ 1983میں کی گئی۔

تفصیلات کےمطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں عمران خان نا اہلی کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔

تحریک انصاف کے وکیل نے سماعت کے آغاز پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے لندن فلیٹ کے لیے16 دسمبر 1983 کو 11 ہزار 750 پاؤنڈ جمع کرائے۔

انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 1971میں عمران خان پاکستان ٹیم میں منتخب ہوئےجبکہ 1971سے 1976 تک وسٹارشائرکےلیےکھیلتےرہے۔1977سے1979تک کیری پیکرسیریزکھیلی۔

نعیم بخاری نے کہا کہ آصف اقبال سمیت ظہیرعباس سمیت دیگرکھلاڑی بھی کھیلتےتھے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کوآسٹریلیا سے75ہزارڈالرملےتھے۔

تحریک انصاف کے وکیل نے کہا کہ اشتہارات،انعامات اوردیگرآمدن اس کےعلاوہ تھی جبکہ کرکٹ سےزیادہ آمدن اشتہارات سےہوئی تھی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وسٹارشائرکےساتھ عمران خان کب تک منسلک رہے؟ جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ 1977میں عمران خان سسیکس کےساتھ منسلک ہوئے۔

نعیم بخاری نےدلائل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان85-1984میں نیوساؤتھ ویلزکےساتھ کھیلتےرہے۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ کیا85-1984میں عمران خان سسیکس سےمنسلک رہے۔؟

تحریک انصاف کے وکیل نےکہا کہ لندن فلیٹس کی ادائیگی کا بینک ریکارڈبھی مل گیاہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نےاجازت کےبغیردستاویزات دینےسےمنع کیا تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ تمام دستاویزات درخواست کےساتھ جمع کرادیں، انہوں نے کہا کہ بیان دینےوالے بات کہاں سے کہاں لےجاتے ہیں کون کیاکہتاہےہمیں کوئی سروکارنہیں۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ منی لانڈرنگ کا معاملہ دوسرے فریق نے نہیں اٹھایاتھا،عدالت نےاپنےاطمینان کے لیے دستاویزات منگوائی تھی۔

نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو1988میں ایک لاکھ 90ہزارپاؤنڈ ملے جبکہ رقم عمران خان کومختلف مراحل میں منتقل کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ رائل ٹرسٹ بینک سے13.75فیصدپرقرض لیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کےمطابق61 ہزارپاؤنڈ ادائیگی پہلےکی جاچکی تھی۔

تحریک انصاف کے وکیل نے کہا کہ سود کی رقم شامل کرکےفلیٹس کی رقم ایک لاکھ 61 ہزارپاؤنڈ ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ 75 ہزارڈالرمنتقل ہوئےتوڈالراورپاؤنڈ کا ریٹ برابرتھا۔

جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ کیا 1984میں ڈالراورپاؤنڈ کاریٹ برابرتھا۔ چیف جسٹس نے ریماکیس دیےکہ جاننا چاہتا ہوں عمران خان کےاکاؤنٹ میں اتنی رقم تھی۔؟

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ دلچسپی یہ ہےاکاؤنٹ میں کتنی رقم آئی اورخریداری کےلیےاداہوئی،جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ سسیکس کاؤنٹی سےتنخواہ بھی بینک اکاؤنٹ میں آتی تھی۔

جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ بینک ٹرانزیکشن صرف2ادائیگیوں کوظاہرکرتی ہے،بینک ریکارڈ سے ہرماہ تنخواہ آنا ظاہرنہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ بینک ریکارڈمیں مئی اوراگست کی تنخواہ کاذکرہے،لندن فلیٹ کےلیےرقم نہیں تھی،یہ کیس عدالت کےسامنےنہیں۔

تحریک انصاف کے وکیل نے کہا کہ عدالت کےسامنےمقدمہ نیازی سروسزکوچھپانےکاہے۔ انہوں نے کہا کہ مقدمے میں ٹیکس چھپانے،ایمنسٹی اسکیم سےغلط فائدہ اٹھانےکاالزام لگا۔

نعیم بخاری نےکہا کہ پاکستان میں غیرملکی آمدن ظاہرکرنےکی پابندی نہیں تھی اور عمران خان کوایف بی آر نےکوئی نوٹس جاری نہیں کیا تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جواب میں واضح لکھاہےعمران خان لندن فلیٹس کےمالک تھے،انہوں نے کہا کہ درخواست کےمطابق نیازی سروسزچھپانے صادق امین نہیں رہے۔


عمران خان کی منی ٹریل مکمل، کاؤنٹی سے متعلق ریکارڈ بھی مل گیا


چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ دوسرے فریق کےمطابق عمران خان1981 سےٹیکس فائلرہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس لاگوہےیانہیں،آمدن ظاہرکرنا فریق کے مطابق لازمی ہے۔

تحریک انصاف کے وکیل نےعمران خان کےٹیکس گوشوارے عدالت میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ گوشواروں میں ظاہرہوجائےگا عمران خان نے ٹیکس چوری نہیں کی۔

نعیم بخاری نے کہا کہ عمران خان کوکہا گیاغیرملکی آمدن پرٹیکس لاگونہیں ہوتا،وقت آنے پرٹیکس ایمنسٹی اسکیم میں فلیٹس کوظاہرکیا گیا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ دیکھنا ہوگا آرٹیکل 62 کب لاگو ہوتاہے،انہوں نے کہا کہ آرٹیکل62 سے متعلق 2 قانونی اورعدالتی مثالیں ہیں۔

جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ پہلی مثال حقوق العباد سے متعلق جبکہ دوسری عدالتی مثال قانون کی خلاف ورزی پرہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم میں سزا ہوتی ہے نا معافی جبکہ ٹیکس ایمنستی توسب کےلیےہوتی ہے۔

تحریک انصاف کے وکیل نے پاناماکیس میں جسٹس شیخ عظمت کےفیصلےکاحوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ فیصلےمیں کہا گیا62 توسیاسی انجینئرنگ کےلیےاستعمال نہیں ہوسکتا۔

نعیم بخاری نے کہا کہ فیصلےمیں3 ججزنے کہا عوامی نمائندگی ایکٹ کوشامل نہیں کیاجاسکتا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم نہ ہوتی توآپ کاکیاموقف ہوتا۔

نعیم بخاری نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ انتخابی قوانین کےمطابق لندن فلیٹ ظاہرکرناضروری تھا، انہوں نے کہا کہ 2002 کےانتخابات میں لندن فلیٹ ظاہرکیا تھا۔

تحریک انصاف کے وکیل نے کہا کہ 2002میں فلیٹ ظاہرکیا جو2003 میں فروخت ہوگیا،چیف جسٹس نے کہا کہ بنی گالہ اراضی میں آپ نےکہا تھا ایک لاکھ ڈالر ٹریس نہیں ہورہے۔

نعیم بخاری نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جمائما سے دستاویزات کےبعد منی ٹریل مکمل ہوگئی، انہوں نے کہا کہ راشد خان کےمطابق رقم جمائمانے ہی بجھوائی تھی۔

تحریک انصاف کے وکیل نے کہا کہ جمائما نےمجموعی طورپر4لاکھ 8ہزارڈالربجھوائےتھے۔ راشد خان نے عدالت میں کہا کہ جمائما سےرقم میرے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئی۔

جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ اکاؤنٹ میں 1لاکھ ڈالر23 جنوری2003 کومنتقل ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ رقم جمائما سے نہیں آئی یہ آپ کا پہلے جواب تھا۔

جسٹس فیصل عرب نے ریماکیس دیے کہ مئی2003 میں ایک لاکھ ڈالرسےزائد رقم پاکستان منتقل ہوئی، رقم بنی گالہ اراضی خریداری کے بعد موصول ہوئی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جمائما سے 2لاکھ 58 ہزار333 ڈالرموصول ہوئے، انہوں نے کہا کہ آپ خود ساری رقم کی وضاحت کردیں۔

نعیم بخاری نے کہا کہ جمائما خان کواپنی جانب سے بینک کوجاری ہدایات نہیں مل رہیں، انہوں نے کہا کہ تیسری بار 20ہزارپاؤنڈ پاکستانی کرنسی میں موصول ہوئے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جمائما سے3 اقساط سے26 ہزارڈالربھی ملے، جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ یہ رقم جمائما اور راشد خان کےدرمیان سیٹل ہوگئی تھی۔

تحریک انصاف کے وکیل نے کہا کہ یہ وہ رقم تھی جوراشد خان نےخرچ کی بعد میں جمائما نےادا کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پہلےآپ کےتحریری جواب میںٕ یہ موقف نہیں تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا راشد خان کے26 ہزارخرچ کرنےکا ریکارڈ موجود ہے،نعیم بخاری نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ 26 ہزارڈالرخرچ کرنے کا ریکارڈ نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ مزید1لاکھ ڈالرکی بھی انٹری ہے، انہوں نےکہا کہ کیاجمائما نے یہ کبھی کہا راشدخان سے ان کا معاملہ طے تھا۔؟

نعیم بخاری نے کہا کہ دونوں میں معاملہ طےہونے کے دستاویزی شواہد نہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ عمران خان نےجمائما کوادھارلی گئی رقم سےزائد واپس کی۔

تحریک انصاف کے وکیل نے کہا کہ 7مئی2003 کوجمائما کوبذریعہ بینک ادائیگی کی گئی،انہوں نے کہا کہ بنی گالہ اراضی جمائما کےرہنےکےلیے ہی خریدی گئی تھی۔

نعیم بخاری نے کہا کہ لندن فلیٹ 6لاکھ 90 ہزارپاؤنڈ میں فروخت ہوا، انہوں نے کہا کہ ثابت ہوگیا بنی گالہ اراضی جمائما کی رقم سے خریدی گئی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے پہلےاوراب کےموقف میں فرق ہے، پہلے کہا گیا تمام رقم جمائما نے بھیجی جبکہ اب کہا گیا 26 ہزارڈالرراشد خان کےساتھ طے ہو گئے تھے۔

دوسری جانب اکرم شیخ نے کہا کہ بینک ریکارڈ کی متعلقہ بینکوں سےتصدیق کرائی جائیں۔ نعیم بخاری نے کہا کہ تصدیق کےلیےوقت درکارہوگا کیونکہ بعض بینکوں کاعلم نہیں کہ اب ہیں بھی یا نہیں۔


عمران خان کی منی ٹریل مکمل، 


چیف جسٹس نے کہا کہ آپ یہ بھی بتائیں بینک ختم ہوگئےتوریکارڈ کہاں سےآیا؟ نعیم بخاری نے کہا کہ ریکارڈ سابقہ اکاؤنٹنٹ سےملا ہے۔

تحریک انصاف کے وکیل نے کہا کہ عدالت کومطمئن کرنےکی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جس حد تک ہوسکا دستاویزات کی تصدیق کرائیں گے۔

تحریک انصاف کے وکیل نے کہا کہ ایسا کچھ نہیں کروں گاعدالت کےسامنےشرمسارہوناپڑے، انہوں نے کہا کہ قطری خط کتنی شرم کا باعث یہ بھی علم ہے۔

نعیم بخاری نےکہا کہ ریکارڈ کی تصدیق کےلیےلندن بھی جانا پڑاجاؤں گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ شیخ صاحب جعلی دستاویزات جمع کرانےکارسک کیوں لیں گے۔؟

واضح رہےکہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں عمران خان نا اہلی کیس کی سماعت 31 جولائی تک ملتوی ہوگئی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں