site
stats
پاکستان

خواجہ آصف فوری طور پر مستعفیٰ ہو جائیں ، نعیم الحق

اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق نے کہا ہے کہ خواجہ آصف فوری طور پر مستعفیٰ ہو جائیں، ڈی جی آئی بی کوچیئرمین نیب بنانےکی کوشش کی جارہی ہے، تعیناتی ہوئی تومخالفت کریں گے، متفقہ فیصلہ ہے ہمارے اپوزیشن لیڈرعمران خان ہی ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق پی‌ ٹی آئی کے رہنما نعیم الحق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جانتے ہیں نوازشریف کے بھارتی سےذاتی تعلقات ہیں، نوازشریف کےکارندے اب تک حکومت میں ہیں، نوازشریف کےکارندےانصاف کی راہ میں روڑےاٹکا رہےہیں۔

ںعیم الحق نے الزام لگایا کہ نٹیلی جنس بیوروکے ڈائریکٹر نے جے آئی ٹی میں ایمبولینس بھیجی، ایمبولینس میں جاسوسی کےآلات تھے، ڈائریکٹرجنرل انٹیلی جنس بیوروکوچیئرمین نیب بنانےکی کوشش کی جارہی ہے، ڈائریکٹرجنرل انٹیلی جنس بیورو کی تعیناتی کی مخالفت کریں گے۔

رہنما تحریک انصاف نے مطالبہ کیا کہ خواجہ آصف فوری طور پر استعفیٰ دیدیں، کٹھ پتلی وزیراعظم شاہدخاقان کی نگرانی میں ادارےکر دارادا نہیں کرسکتے۔

نواز شریف کے لندن جانے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ نوازشریف لندن جارہےہیں،یہ نہیں جانتاکہ وہ اب واپس آئیں گے یا نہیں، ڈان لیکس رپورٹ شائع نہیں ہورہی،مریم نواز،نوازشریف کی یہ سازش تھی۔


مزید پڑھیں : نااہل وزیراعظم نوازشریف اب بھی شاہی زندگی گزاررہے ہیں ،نعیم الحق


سانحہ ماڈل ٹاؤن کی انکوائری رپورٹ منظر عام پر نہ لانے سے متعلق رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن رپورٹ کو چھپایا جارہا ہے، شہباز شریف، راناثنااللہ اس میں ملوث ہیں۔

ںعیم الحق نے عمران خان کے قبل از انتخابات کے حوالے سے کہا کہ موجودہ حکومت کچھ نہیں کرپارہی، اس لئے عمران خان نے نئے انتخابات کامطالبہ کیا ہے۔

اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی سے متعلق انکا کہنا تھا کہ 3 دن پہلے پی ٹی آئی رہنماؤں نےاپوزیشن لیڈر سے متعلق متفقہ فیصلہ کیا تھا، یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہمارے اپوزیشن لیڈر عمران خان ہونگے، ایک دو روز میں اپوزیشن لیڈر کیلئے ووٹ کی تعداد کا پتہ چل جائیگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے پی ٹی آئی سینیٹرزکوکل طلب کیا تھا، جن میں سے 2غیر حاضر تھے، عمران خان نے غیر حاضر دونوں سینیٹرز کی سخت سرزنش کی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top