کراچی (11 فروری 2026) : امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ اگر میئر جماعت اسلامی کا ہوتا تو شہر کے حالات اس طرح نہ ہوتے۔
کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر میئر جماعت اسلامی کا ہوتا تو شہر کے حالات اس طرح کے نہ ہوتے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ کراچی میں کرپشن عروج پر ہے اور ماسٹر پلان سمیت متعدد معاملات توجہ طلب ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی نے بھرپور کامیابی حاصل کی تھی لیکن اس کے مینڈیٹ پر قبضہ کرلیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ 55 ارب روپے کے بجٹ کے باوجود اگر میئر جماعت اسلامی کا ہوتا تو شہری مسائل میں واضح فرق نظر آتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیوریج کا کام جماعت اسلامی کی ذمہ داری نہیں، اس کے باوجود وہ اپنے حصے کا کام انجام دے رہے ہیں۔
شہر کراچی کی بقا دراصل پاکستان کی بقا کا مسئلہ ہے، اس لیے عوام کو میدان عمل میں نکل کر ان کا ساتھ دینا ہوگا۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ جیسے ہی صوبے کی بات ہوتی ہے تو فساد شروع ہوجاتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کراچی کے لیے میگا سٹی گورنمنٹ قائم کی جائے اور اختیارات کو نچلی سطح تک تقسیم کیا جائے۔
انہوں نے پیپلزپارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ عوام دشمن جماعت ہے جس نے اختیارات نچلی سطح پر منتقل نہیں کیے۔ حافظ نعیم الرحمان نے زور دیا کہ نظام کو بدلنے کے لیے سب کو متحد ہونا پڑے گا۔
14 فروری کو سندھ اسمبلی پر تاریخی دھرنا دیں گے، حافظ نعیم الرحمان
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


