The news is by your side.

Advertisement

کیا نماز فجر اور عصر کے بعد نوافل پڑھی جاسکتی ہیں ؟

پانچ وقت کی نمازیں ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض اوّلین ہیں، ان کے علاوہ دن بھر میں 5 نفلی نمازیں اشراق، چاشت، صلوۃ الخضر، اوابین اور تہجد بھی ہیں ساتھ ہی دیگر نفل نمازیں علیحدہ ہیں، مثلاً نمازِ خسوف، نماز کسوف، استخارہ، صلوۃ التسبیح، صلوۃ التوبہ، نمازِ حاجت  وغیرہ۔

سجدہ اللہ کو پسند ہے اور حکم بھی ہے لیکن یہ بات ذہن نشین رہے کہ کچھ اوقات ممنوعہ بھی ہیں جن میں شریعت کے تحت سجدہ نہ کرنے کا حکم ہے۔

صبحِ صادق کے بعد سنتِ فجر کے علاوہ نوافل پڑھنا مکروہ ہیں، سنتوں سے پہلے بھی اوربعد میں بھی۔

فجراورعصرکے بعد نوافل پڑھنا ممنوع ہے

سنتِ فجر سے پہلے سجدہٴ تلاوت کرسکتے ہیں اور قضا نمازیں بھی پڑھ سکتے ہیں لیکن صبحِ صادق کے بعد سنتِ فجر کے علاوہ اور نوافل جائز نہیں۔

علاوہ ازیں مغرب کی نماز اذان کے بعد جلدی پڑھنے کا حکم ہے، اس لیے فقہ حنفی کے نزدیک مغرب سے پہلے نفل پڑھنا مناسب نہیں۔


Kya Asar Ki Namaz Kay Baad Nafil Namaz Ada Ki… by aryqtv

عصر کی نماز کے بعد نوافل نہیں پڑھ سکتے یہ مکروہ عمل ہے لیکن اگر کوئی قضا نماز پڑھنا چاہتا ہے تو آئمہ کرام کے نزدیک بہترعمل یہ ہے کہ وہ نمازیں مسجد کے بجائے گھر پر ہی پڑھی جائیں، لہٰذا فجر کی نماز اورعصر کی نماز کے بعد نوافل نہیں پڑھ سکتے۔

نفل نمازیں بیٹھ کر پڑھنا کیسا ہے؟

نفل نمازوں کو بغیر کسی عذر کے بیٹھ کر پڑھنا لوگوں کا ذاتی عمل ہے کہ وہ دیگر تمام نمازیں تو کھڑے ہوکر پڑھتے ہیں مگر نفل بیٹھ کر پڑھتے ہیں۔ علمائے کرام کے مطابق نفل بیٹھ کر پڑھنے کی اجازت ضرور ہے لیکن بغیر کسی عذرکے بیٹھ کر نفل پڑھنے سے اس نماز کا ثواب آدھا ملتا ہے۔

اس لیے نفل نمازیں کھڑے ہوکر پڑھنا افضل عمل ہے، پنج وقتہ نماز کی پابندی ہر مسلمان کو کرنی چاہیے، اس میں کوتاہی کرنا دُنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کے غضب کا موجب ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں