site
stats
صحت

دانتوں سے ناخن کترنا ذہنی انتشار کی علامت

ہوسکتا ہے آپ ناخن کترنے کی عادت بد میں مبتلا ہوں یا آپ کے آس پاس موجود کسی شخص میں یہ عادت پائی جاتی ہو۔ بعض نفاست پسند لوگ اس عادت سے نہایت کراہیت اور الجھن میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

آئیے آج اس عادت کے بارے میں کچھ حقائق جانیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دانتوں سے ناخن کترنے والے افراد عموماً کاملیت پسند ہوتے ہیں۔ وہ اپنے ہر کام کو نہایت خوبصورتی، توجہ اور بغیر کسی غلطی کے انجام دیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق لوگ عموماً اس وقت ناخن کترتے ہیں جب وہ ذہنی تناؤ یا دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسے وقت میں وہ لاشعوری طور پر دانتوں سے ناخن چبانے لگتے ہیں اور انہیں اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔

nail-2

ایک اور تحقیق کے مطابق ناخن کترنے کے عادی افراد اگر کسی چیز پر توجہ مرکوز کرنا چاہیں یا بہت گہری سوچ میں ڈوبے ہوں تب بھی وہ بے اختیار ناخن کھانے لگتے ہیں۔

دانتوں سے ناخن کترنا دراصل ’نروس ہیبٹ‘ قرار دی جاتی ہے یعنی دماغی الجھن اور پریشانی کے وقت اختیار کی جانے والی عادت۔

مزید پڑھیں: دانتوں کی ساخت سے شخصیت کا اندازہ لگائیں

اکثر بچوں میں بھی یہ عادت ہوتی ہے اور یہ ان کی اندرونی بے چینی، بوریت، پریشانی یا گھبراہٹ کو ظاہر کرتی ہے۔

ماہرین اس عادت کے ساتھ چند اور عادتوں کو بھی منسلک قرار دیتے ہیں جیسے انگوٹھا چوسنا، ناک کو پکڑنا، سامنے کے بالوں کو گھمانا یا ان سے کھیلنا، اور دانت پیسنا۔ یہ تمام عادتیں دراصل بے چینی اور ذہنی انتشار کی علامت ہیں۔

nail-3

ناخن کترنے کے کئی نقصانات ہیں۔ سب سے پہلے تو آپ کے ناخنوں میں موجود جراثیم آپ کے اندر جا کر آپ کو ہاضمے سمیت مختلف انفیکشنز اور بیماریوں میں مبتلا کرسکتے ہیں۔

یہ عادت دانتوں اور مسوڑھوں کو مختلف تکالیف میں مبتلا کرنے کا سبب بنتی ہے۔

مستقل دانت کترنے رہنے سے آپ کے ہاتھ کے ناخن بے ڈھب اور انگلیاں اور ہاتھ بدنما نظر آںے لگتے ہیں۔ بعض اوقات ناخن کو گہرائی تک کترنے کے باعث انگلیاں زخمی بھی ہوجاتی ہیں اور زخمی انگلیوں کو پھر سے منہ میں لے جانا مزید انفیکشن اور بیکٹریا منتقل کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top