site
stats
صحت

ناخن انسانی شخصیت کے عکاس

کراچی: کیا آپ جانتے ہیں کہ انسان کے ناخن اُس کی شخصیت کی عکاسی کرتے ہیں؟ یہ بات حالیہ تحقیق میں سامنے آئی۔

تفصیلات کے مطابق نایجیریا کے ماہرین ناخنوں پر غور و خوض کرنے کے لیے سرجوڑ کر بیٹھے تو تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ناخن انسانی شخصیت کی عکاسی کرتے ہیں۔

نائیجیریا کے ماہرین نے ہزاروں افراد کے ناخنوں کا مشاہدہ کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ کسی بھی شخص کے ناخن مماثلث نہیں رکھتے یہاں تک کہ والدین اور بچوں کے ناخن بھی بالکل مختلف ہوتے ہیں۔

تحقیق میں ہزاروں افراد کے ناخن دیکھے گئے جس میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ان کی پانچ قسمیں اور علیحدہ خصوصیات ہیں۔

تکون ناخن

ماہرین کے مطابق ایک قسم تکون ناخن کی ہے، ایسے ناخن رکھنے والے افراد شاعری، موسیقی، مصوری میں خاصی دلچسپی رکھتے ہیں اور کسی بھی ایک کام کو دیر تک کرنے سے کتراتے ہیں، ایسے افراد اپنی سوچ سے دنیا میں مشہور ہونے کا خواب دیکھتے ہیں تاہم اپنے خلاف ہونے والی کوئی بھی بات برداشت نہیں کرتے کیونکہ انہیں شکست کسی صورت قبول نہیں ہوتی۔

چوڑے اور لمبے ناخن

چوڑے اور لمبے ناخن کے حامل افراد عام طور پر ذہین اور قابل اعتماد ہوتے ہیں کیونکہ یہ وعدہ خلافی کرنا پسند نہیں کرتے، ایسے افراد کو بچپن سے لیڈر بننے کا شوق ہوتا ہے اور جہاں موقع ملے یہ اُسے حاصل کرتے ہیں۔

بادامی ناخن

بادام کی شکل  والے ناخن کے حامل افراد حساس اور نرم مزاج کے مالک ہوتے ہیں جبکہ یہ لوگ خوابوں خیالوں کی دنیا میں رہنا پسند کرتے ہیں، چھوٹی موٹی خوشیوں میں جھومنے والے لوگوں کو اپنے ساتھ مذاق کرنا ناگوار گزرتا ہے۔

چوکور ناخن

چوکور ناخن والے افراد عقل مند اور ہوشیار  اور اناپرست ہوتے ہیں، کوئی بھی شخص اگر ان کے خلاف مزاج کوئی بات کرے جس سے اُن کی انا کو ٹھیس پہنچے تو وہ تعلق ختم کرلیتے ہیں۔

چھوٹے ناخن

چھوٹے ناخن والے افراد ذہین مگر بے صبرے اور غصے کا مزاج رکھتے ہیں، ایسے افراد کامیابی حاصل کرنے کے لیے ہر قسم  کے چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں اور  اپنے عہد سے کبھی پیچھے نہیں ہٹتے۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں ۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top