The news is by your side.

Advertisement

آرمی چیف انصاف دلوائیں، نقیب کے والد کی اپیل

ڈیرہ اسماعیل خان: کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں مبینہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والے نوجوان نقیب اللہ محسود کے والد نے کہا ہے کہ میرا بیٹا بے گناہ تھا اس بات کی گواہی پورا پاکستان دے رہا ہے، آرمی چیف اور وزیر اعظم انصاف دلوائیں۔

تفصیلات کے مطابق 13 جنوری کو ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی سربراہی پولیس نفری نے خطرناک دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے شاہ لطیف ٹاؤن میں چھاپا مارا تو اسی دوران مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔

پولیس کی جوابی فائرنگ سے چار نوجوان ہلاک ہوئے جن میں سے ایک نقیب اللہ محسود بھی تھا، نوجوان کی ہلاکت کے تین روز بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر نقیب کی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے مہم کا آغاز کیا گیا۔

مزید پڑھیں: راؤ انوار نے نقیب اللہ محسود کو جعلی پولیس مقابلے میں قتل کیا، عمران خان

مقتول کے دوستوں اور قریبی رشتے داروں نے دعویٰ کیا کہ ’نقیب کپڑے کا کاروبار کرنے کی غرض سے کراچی آیا اور اُسے سی ڈی ٹی نے سہراب گوٹھ سے 7 جنوری کو گرفتار کیا تھا جبکہ ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کا دعویٰ ہے کہ مقابلے میں مارا جانے والا شخص تحریک طالبان کا اہم کارندہ تھا۔

ایس ایس پی ملیر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق نقیب نے جنوبی وزیرستان میں تحریک طالبان کے امیر بیت اللہ محسود کو بطور ڈرائیور اپنی خدمات پیش کیں اور آرمی آپریشن شروع ہونے کے بعد وہ فرار ہوکر کراچی آگیا۔

پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے نوجوان کا نمازِ جنازہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ادا کر کے جسد خاکی آبائی علاقے روانہ کردیا گیا جہاں نقیب اللہ محسود کی تدفین کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ایس ایس پی ملیر  راؤ انوار کا موقف

نقیب اللہ محسود کے والد کا کہنا ہے کہ ’میرا بیٹا بے گناہ تھا اُسے پولیس نے گرفتار کرکے 14 دن تک لاپتہ رکھا، اگر وہ کسی جرم میں ملوث تھا تو عدالت کے سامنے پیش کیا جاتا مگر اُسے جعلی مقابلے میں مار دیا گیا‘۔

والد نے آرمی چیف اور وزیر اعظم سے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’پورا پاکستان بیٹے کے لیے گواہی دے رہا ہے، پولیس مقابلہ کرنے والے اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے‘۔

نقیب اللہ محسود کون تھا؟

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں