site
stats
پاکستان

سیکیورٹی کے مسائل ہیں‘ راؤ انوار کے خلا ف مقدمہ درج کرائیں گے: اہلِ خانہ نقیب

Naqeeb ullah

کراچی: سندھ پولیس کےمبینہ مقابلے میں مارےجانے والے نقیب کے اہلِ خانہ نے ایڈیشنل آئی جی سے رابطہ کیا ہے اورعدالتی حکم پر معطل ایس ایس پی راؤ انوار کے خلاف مقدمہ درج کرانے کا عندیہ دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق نقیب کے اہلِ خانہ نے ایڈیشنل آئی جی انسدادِ دہشت گردی ثنا اللہ عباسی سے رابطہ کرکے کہا ہے کہ کراچی آنے کا مسئلہ نہیں ‘ لیکن سیکیورٹی کے مسائل ہیں۔ راؤ انوار کے خلاف مقدمہ درج کرائیں گے۔

نقیب کے کزن نوررحمان کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی نے سیکیورٹی دینے کی یقین دہانی کرائی ہے‘ نقیب کے بھائی ایک سے دو روز میں کراچی پہنچ جائیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نقیب کے قاتل کو گرفتار کرکے انصاف فراہم کیا جائے۔

نقیب اللہ محسود کی ہلاکت، بلاول بھٹو نے تحقیقات کا حکم دے دیا

یاد رہے کہ جعلی مقابلے میں نقیب اللہ کی ہلاکت پر ایس ایس پی ملیر راؤ انوار گزشتہ روز عہدے سے ہٹا دیا گیا جبکہ راؤانوارکانام ای سی ایل میں ڈالنےکافیصلہ کیاہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ راؤ انوارکے خلاف انکوائری مکمل ہونے پر مزید کارروائی ہوگی، تحقیقاتی کمیٹی کو مقتول نقیب اللہ کے خلاف شواہد نہیں ملے، راؤ انوار کی جانب فراہم کیا گیا نقیب کا کرائم ریکارڈ کسی اور کا ہے جبکہ جیل میں قید دہشت گرد قاری احسان اللہ نے بھی نقیب کو پہچانے سے انکار کردیا ہے ۔

گزشتہ روز ایس ایس پی ملیر راؤ انور نے دعویٰ کیا تھا کہ دہشت گردی کی درجنوں وارداتوں میں ملوث نقیب اللہ کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تھا اور کراچی میں نیٹ ورک چلا رہا تھا جبکہ 2004 سے 2009 تک بیت اللہ محسود کا گن مین رہا جبکہ دہشت گردی کی کئی واردتوں سمیت ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل توڑنےمیں بھی ملوث تھا۔

نقیب اللہ کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ مقتول کی الاآصف اسکوائر پر کپڑے کی دکان تھی، تین جنوری کو سادہ لباس میں ملبوس پولیس اہلکار اسے لے کر گئے اور تیرہ جنوری کو ایدھی سینٹر سہراب گوٹھ سے اس کی لاش ملی۔ یاد رہے کہ ان کاؤنٹراسپیشلسٹ راؤانوار نے تیرہ جنوری کو شاہ لطیف ٹاؤن میں چار دہشت گردوں کو مقابلےمیں مارنے کا دعویٰ کیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

loading...

Most Popular

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top