site
stats
پاکستان

نقیب اللہ ہلاکت: جرگے میں پولیس کے خلاف شکایتوں کے انبار

کراچی: شہر قائد کے علاقے سہراب گوٹھ میں نقیب اللہ محسود کی جعلی پولیس مقابلے میں ہلاکت اور دیگر پختونوں کی گمشدگی کے لیے لگائے جانے والے جرگے میں راؤ انوار کے خلاف ایک اور خاندان شکایت لے کر پہنچ گیا۔

تفصیلات کے مطابق نقیب اللہ کی ہلاکت اور انصاف کے لیے لگایا جانے والا محسود قبیلے کا جرگہ پولیس کے خلاف شکایتی مرکز بن گیا، چار روز میں مختلف لاپتہ لوگوں کے اہل خانہ شکایات لے کر پہنچ گئے۔

نقیب اللہ کی ہلاکت کے بعد سہراب گوٹھ پر جرگے کا سلسلہ بدستور جاری ہے جس میں مختلف سیاسی و سماجی شخصیات  شرکاء سے اظہار یکجہتی کے لیے شرکت کررہی ہیں۔

جرگے میں انصاف دو انصاف دو کی صدائیں بلند کی جارہی ہیں، متاثرہ خاندانوں کا مطالبہ ہے کہ انہیں اُن کے پیارے فوری واپس کیے جائیں یاپھر جن لوگوں کو مقابلے میں مارا گیا اُن کا انصاف دیا جائے۔

مزید پڑھیں: حساس اداروں پر مشتمل جے آئی ٹی بنائی جائے ، راوٴ انوار کا مطالبہ

شاہراہ فیصل پر گزشتہ دنوں ڈاکو قرار دے کر پولیس فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے مقصود کے اہل خانہ بھی جرگہ کیمپ پہنچے اور محکمے کے خلاف اپنی شکایات جمع کروائیں۔

مقتول کی چھوٹی بہن نے جذباتی تقریر سُن کر ہر شخص کا چہرہ افسردہ اور پنڈال سوگوار ہوگیا شرکا میں ایک بوڑھا شخص دو نوجوانوں کی تصاویر ہاتھ میں لے کر بیٹھا ہے جس میں سے ایک اُس کا بھتیجہ اور دوسرا بیٹا ہے۔

جرگے میں ایک اور لاپتہ شخص کا خاندان سابق ایس ای پی ملیر کی شکایت لے کر پہنچا، عجب خان کے بیٹے کا مؤقف ہے کہ میرے والد اکتوبر 2017 سے لاپتہ ہیں اور اُن کی گمشدگی میں بھی راؤ انوار کا ہاتھ ہے۔

گمشدہ شخص کی اہلیہ نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے شوہر پراپرٹی کا کام کرتے تھے انہیں راؤ انوار نے اغوا کی دھمکی دی اور اُس کے بعد چار گاڑیاں اور ایک ڈبل کیبن میں انہیں زبردستی اغوا کر کے لے گئے‘۔

یہ بھی پڑھیں: انتظارقتل کیس: شام تک نتیجے پر پہنچ جائیں گے، سی ٹی ڈی کا دعویٰ

عجب خان کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ ہم نے اغوا کے خلاف تھانے میں درخواست دی اور عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا مگر کوئی فائدہ نہ ہوا اور ہماری کہیں شنوائی نہیں ہوئی۔

واضح رہے 13 جنوری کو ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی سربراہی میں خطرناک ملزمان کی گرفتاری کے لیے شاہ لطیف ٹاؤن میں چھاپے کے لیے جانے والی پولیس پارٹی پر دہشت گردوں نے فائرنگ کردی تھی جس پر پولیس نے جوابی فائرنگ کرتے ہوئے 4 دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا، ہلاک ہونے والوں میں نوجوان نقیب اللہ بھی شامل تھا۔

نوجوان کی مبینہ ہلاکت کو سوشل میڈیا پر شور اٹھا اور مظاہرے شروع ہوئے تھے، بلاول بھٹو نے وزیرداخلہ سندھ کو واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا، جس کے بعد ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں تفتیشی ٹیم نے ایس ایس پی ملیر سے انکوائری کی۔

اسے بھی پڑھیں: شاہراہ فیصل پولیس مقابلہ بھی جعلی نکلا، وزیرداخلہ کی تصدیق

اعلیٰ سطح پر بنائی جانے والی تفتیشی ٹیم نے راؤ انوار کو عہدے سے برطرف کرنے اور نام ایگزیٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی سفارش کی، جس پر عملدرآمد کرتے ہوئے انہیں برطرف کردیا گیا تھا۔

قبائلی نوجوان کی ہلاکت پر بنائی جانے والی تحقیقاتی کمیٹی نے واقعے کی تفتیش مکمل کرلی جس کے مطابق نوجوان کو بے گناہ قتل کیا گیا اور پولیس پارٹی نے جھوٹ کا سہارا لے کر نقیب اللہ کو مجرم قرار دینے کی کوشش کی۔

سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار قتل کی تفتیش شروع ہونے کے بعد سے پراسرار گمشدہ ہوگئے جس کے باعث پولیس کو انہیں گرفتار کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

loading...

Most Popular

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top