The news is by your side.

Advertisement

‘راؤ انوار وقوعہ پر مقابلے کے وقت موجود نہیں تھے’

موبائل سی ڈی آر ایکسپرٹ نے نقیب اللہ قتل کیس میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی وقوعہ سے عدم موجودگی کا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ راؤ انوار جائےوقوعہ پر مقابلے کے وقت موجود نہیں تھے۔

کراچی کی انسداد دہشتگردی کی عدالت میں نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت ہوئی تو سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار اور ڈی ایس پی قمر سمیت دیگرعدالت میں پیش ہوئے۔ مقدمے کےتفتیشی افسرعابد قائم خانی بھی گواہوں کےہمراہ پیش ہوئے۔

موبائل سی ڈی آر ایکسپرٹ حنیف انسپکٹر سمیت4گواہان کےبیانات قلمبند کیے گئے جب کہ ایک گواہ کو استغاثہ کی جانب سے گیواپ کردیاگیا۔

موبائل سی ڈی آرایکسپرٹ انسپکٹر نے بیان دیا کیا کہ مقابلے کے وقت راؤ انوار سمیت 9 سے 10 افراد وقوعہ پر موجود نہیں تھے، جیوفینسنگ رپورٹ کےمطابق یہ افسران مقابلہ ختم ہونے کے بعدپہنچے۔

انسپکٹر کے مطابق مقابلےکا وقت 3 بجے سے3 بجکر 20منٹ کا ہے اور ان افسران کی لوکیشن جائے وقوعہ کے موبائل ٹاور پر بعد کی آئی ہے۔

ایس ایس پی راؤ انوار جائےوقوعہ پرمقابلےکےوقت موجود نہیں تھے جب کہ ڈی ایس پی قمر کی3بجکر8منٹ کی لوکیشن رزاق آباد ٹریننگ سینٹر کی ہے اور جائےوقوعہ پرپہنچنےکاوقت ساڑھے3بجےکاہے۔

دوران سماعت ملزمان کے وکلا کی گواہوں کے بیانات پرجرح مکمل کر لی گئی اور عدالت نےآئندہ سماعت پر مزید گواہوں کوطلب کرتے ہوئے سماعت7 دسمبر تک کے لیے ملتوی کر دی۔

نقیب اللہ قتل کیس میں نیا موڑ:

دو گواہوں کے اہم انکشافات

یاد رہے گزشتہ برس 13 جنوری کو ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے شاہ لطیف ٹاؤن میں پولیس مقابلہ کا دعویٰ‌ کیا تھا، ٹیم کا مؤقف تھا کہ خطرناک دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے اس کارروائی میں‌ پولیس نے جوابی فائرنگ کرتے ہوئے چار ملزمان کو ہلاک کیا تھا، ہلاک ہونے والوں میں نوجوان نقیب اللہ بھی شامل تھا۔

سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم کے بعد اس واقعے کے خلاف عوامی تحریک شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں‌ پولیس مقابلے کی تحقیقات شروع ہوئیں، ایس ایس پی رائو انوار کو عہدے سے معطل کرکے مقابلہ کو جعلی قرار دے گیا تھا۔

سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے نقیب اللہ کے ماورائے عدالت قتل کا از خود نوٹس کیس مقرر کرتے ہوئے راؤ انوار کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کا حکم دیا تھا۔

نقیب اللہ قتل کیس : پولیس اہلکاروں

کی درخواست ضمانت مسترد

جس کے بعد راؤ انوار روپوش ہوگئے اور دبئی فرار ہونے کی بھی کوشش کی لیکن اسے ناکام بنادیا گیا تھا لیکن پھر چند روز بعد اچانک وہ سپریم کورٹ میں پیش ہوئے جہاں سے انہیں گرفتار کرلیا گیا تھا۔

نقیب قتل کی تفتیش کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی نے راؤ انوار کو نقیب اللہ کے ماورائے عدالت قتل کا ذمہ دار ٹھہرا یا گیا تھا، بعد ازاں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مرکزی ملزم اور سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو رہا کردیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں