site
stats
اہم ترین

نقیب اللہ قتل کیس، راؤانوار کا پیغام میڈیاپرچلانے پر پابندی، گرفتاری کے لیے مزید 10 دن کی مہلت

اسلام آباد: نقیب اللہ قتل کیس میں چیف جسٹس نے راؤانوار کا پیغام میڈیا پر چلانے پر پابندی لگاتے ہوئے گرفتاری کے لیے مزید 10 دن کی مہلت دیدی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ نقیب اللہ محسود قتل ازخود نوٹس کیس کی سماعت کر رہا ہے، سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے سوال کیا کہ آئی جی صاحب ،ذرا تفصیل سے واقعہ بیان کریں، کیا کوئی نجی طیارہ راؤ انوار کے فرار کیلئے استعمال ہوا ؟

ڈی جی سول ایوی ایشن نے بتایا کہ نجی طیاروں کے مالکان نےبیان حلفی جمع کرادیئےہیں، بیان حلفی میں ہے راؤانوارنےانکے طیارے استعمال نہیں کئے، دنوں میں 4نجی طیاروں نے پروازیں کیں، پائلٹس کی ڈگریوں سے متعلق کمیٹی تشکیل دیدی، فروری تک پہلی رپورٹ آئے گی اور ایک ماہ میں مکمل اسکروٹنی رپورٹ دیں گے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں کہا کہ ایف آئی اے کےمطابق راؤانوارملک سےباہرنہیں گئے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس قتل کا الزام ریاست پرہے، الزام ہے ریاست نے قانون سے انحراف کرتے ہوئے قتل کیا۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ جس پر حفاظت کی ذمہ داری تھی انھی پر قتل کا الزام ہے، مجھے راؤ انوار کاسروس پروفائل مہیا کریں۔

آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ پیش ہوئے اوربتایا راؤانوارکوگرفتارنہیں کرسکے اے ڈی خواجہ نے بتایا راؤ انوارواٹس ایپ استعمال کر رہا ہے، اس لیے لوکیشن معلوم نہیں ہوسکی، لوکیشن پتہ چل جائے توچوبیس گھنٹےمیں گرفتار کرسکتے ہیں۔

سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران آئی جی سندھ نے بتایا کہ ابتدائی معلومات میں13جنوری کو 4دہشتگردوں کی ہلاکت کی اطلاع ملی، محمد اسحاق، نذر جان کی شناخت موقع پر کرلی گئی جبکہ 17 جنوری کو نسیم اللہ عرف نقیب اللہ کی شناخت ہوئی ، فوری سی سی پی او کو مرنے والوں کی شناخت کا کہا، کمیٹی بنائی جس نے20 جنوری کو عبوری رپورٹ دی۔

اے ڈی خواجہ نے مزید بتایا کہ کمیٹی نے انکاؤنٹر کو اسٹیج انکاؤنٹر کہا، نتیجے میں20جنوری کو راؤ انوار اور ٹیم کو معطل کردیا گیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ فوری مقدمہ کیوں درج نہیں کیاگیا، راؤانوار کی حاضری یقینی بنانے کے اقدامات کیوں نہیں کئے، عدالتی حکم کے مطابق ایک دوسرا مقدمہ درج کیا جاسکتاہے، جب بھی مقدمہ پولیس کی جانب سےدرج ہو تو سوال اٹھتے ہیں۔

جسٹس ثاقب نثار نے سوال کیا کہ راؤ انوار کی گرفتاری کیلئے کیا اقدامات کئے گئے، کیا صرف وزارت داخلہ کو نام دیناکافی تھا، بطور سربراہ آپ کو مقدمہ درج کرانا چاہیے تھا۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ کمال کی سپروژن تھی آئی جی صاحب، راؤانوار اسلام آباد ایئر پورٹ سے پکڑا گیا تھا، جس پر آئی جی سندھ نے بتایا کہ 20 جنوری کو راؤ انوار کراچی سے اسلام آباد آیا تھا، جسٹس ثاقب نے ریمارکس دیئے کہ خیال تھا آپ کہیں گے راؤ انوار فلموں کی طرح بس یا ٹرک پر آیا۔

جسٹس عمرعطا بندیال نے پوچھا کہ آپ کو کس قسم کی مدد چاہئے، جس کے جواب میں اے ڈی خواجہ کا کہنا تھا کہ راؤ انوار میڈیا سمیت بہت سے دیگر افراد سے رابطے میں ہیں، عدالت تمام ایجنسیوں کو حکم دے، راؤ انوارکا فون 19جنوری سے بند ہے، راؤ انوار کے پاس دبئی کا اقامہ ہے۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا پولیس افسران کے پاس اقامہ ہوسکتاہے، کیا آپ نے سوچا بھی نہیں تھا راؤانوار باہر جاسکتا ہے، جس پر آئی جی سندھ نے کہا کہ لکی مروت اور اسلام آباد میں ٹیمیں بھیجی ہیں ، راؤانوارکی آخری پوزیشن ڈھوک پراچہ اسلام آباد ترنول ہے۔

جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس میں کہا کہ نقیب سےزندگی کو کسی عام آدمی نےنہیں چھینا، ریاست نے ہی نقیب اللہ سے جینے کا حق چھینا ہے، اب یہ پوری ریاست کی ذمہ داری بن چکی ہے، ممکن ہے راؤانوارکو واپس لانے میں سال لگ جائے، بھول جائیں آپ پر کوئی سیاسی دباؤہے۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ہم پولیس اورانتظامیہ کے تحفظ کے لیے تیار ہیں، معاملات میں عدالت حکم دے تو اختیارات سے تجاوز کہا جاتا ہے۔

نقیب اللہ محسود کا چچا زاد بھائی سپریم کورٹ میں پیش ہوا اور کہا کہ ملزم کی عدم گرفتاری پر تحفظات ہیں۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ راؤانوار گرفتار نہیں ہوا، عدالت نے فو ج اور سویلین خفیہ اداروں کوپولیس کی مدد کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ مزید دس دن کی مہلت دیتے ہیں اور میڈیا کو کوہدایت کی کہ راؤ انوار کا آڈیو یاویڈیو پیغام نشر شائع نہ کریں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ راؤ انوارخود کو قانون کےحوالے کردیں ورنہ توہین عدالت کی کارروائی بھی عمل میں لائی جاسکتی ہے، ملزم کی پشت پناہی کرنے والے بھی شاید قانون کی گرفت سے نہ بچ سکیں۔

نقیب اللہ قتل کیس میں انکوئری رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع


اس سے قبل نقیب اللہ قتل کیس میں انکوئری رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی گئی، آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے رپورٹ عدالت میں جمع کر سندھ پولیس کی رپورٹ میں 2نکات کو سامنے رکھا گیا ہے۔

سندھ پولیس کی رپورٹ کہا گیاکہ یہ پولیس مقابلہ جعلی تھا،نقیب اللہ کوپولیس نے دو دوستوں کے ہمراہ تین جنوری کو اٹھایا اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گرفتار قاسم اور علی کو چھ جنوری کو چھوڑ دیا گیا، کمیٹی کےسامنے نقیب کا پیش کیا گیا ریکارڈ بھی جعلی نکلا اور راؤ انوارکمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے بجائے فرار ہوگئے۔

سندھ پولیس کا مزید کہنا ہے کہ پولیس افسران نقیب کوایک جگہ سےدوسری جگہ منتقل کرتےرہے، نقیب اللہ کسی دہشت گردی کی کارروائی میں ملوث نہیں تھا، نقیب اللہ آزاد خیال طبیعت کاحامل تھا۔

نقیب اللہ محسود کے والد کا خط عدالت میں پیش


نقیب اللہ محسود کے والد کا خط عدالت میں پیش کیا گیا ، جس میں نقیب کےوالد کا کہنا تھا کہ راؤانوارمیڈیامیں بولتاہےالحمداللہ پاکستان میں ہوں، پولیس سے پوچھا جائے تفتیش کے دوران وہ کیسے غائب ہوا، پورافاٹاآپ کےانصاف کا منتظرہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ فاٹا والوں کا غم خوشی مشترک ہے، فاٹا والے فکرنہ کریں دل آپ کے لیے دھڑکتےہیں، سی دن فاٹا میں عدالت لگا سکتاہوں، دکھی باپ کاپیغام ہے سن کوافسوس ہورہاہے۔

بعد ازاں نقیب محسوداز خود نوٹس کی سماعت 13فروری تک ملتوی کردی گئی۔


مزید پڑھیں : نقیب اللہ قتل کیس: سپریم کورٹ کا راؤانوارکو3 دن میں گرفتارکرنےکا حکم


گذشتہ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے پولیس کو راؤ انوار کو گرفتار کرنے کے لیے 72 گھنٹوں کی مہلت دی تھی جبکہ تاحال راؤ انوار کو گرفتار نہیں کیا جاسکا۔

واضح رہے 13 جنوری کو ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی سربراہی میں خطرناک ملزمان کی گرفتاری کے لیے شاہ لطیف ٹاؤن میں چھاپے کے لیے جانے والی پولیس پارٹی پر دہشت گردوں نے فائرنگ کردی تھی جس پر پولیس نے جوابی فائرنگ کرتے ہوئے 4 دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا، ہلاک ہونے والوں میں نوجوان نقیب اللہ بھی شامل تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

loading...

Most Popular

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top