The news is by your side.

Advertisement

نقیب اللہ قتل کیس ، مرکزی ملزم راؤ انوار کو آج عدالت میں پیش کئے جانے کا امکان

کراچی : نقیب اللہ قتل کیس کے مرکزی ملزم راؤ انوار کو آج عدالت میں پیش کئے جانے کا امکان ہے، جس کے باعث سندھ ہائیکورٹ اور کلفٹن میں اے ٹی سی کی سیکیورٹی بڑھادی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق نقیب اللہ قتل کیس کے مرکزی ملزم راؤ انوار کو آج کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کئے جانے کا امکان ہے، سماعت میں راؤ انوار سے تفتیش کیلئے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جائے گی اور تفتیشی افسر راؤانوار کی گرفتاری سے متعلق عدالت کوآگاہ بھی کریں گے۔

جرگہ عمائدین انسداددہشت گردی عدالت پہنچ گئے ہیں ، نقیب اللہ محسود کے وکیل کا کہنا ہے کہ راؤانوار کو آج ریمانڈ کے لئے پیش کیا جائے گا، نئی جےآئی ٹی سے متعلق نقیب کے والد سے بات نہیں ہوئی، نقیب کے والد اور ہم سب عدالت سے مطمئن ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ راؤ انوار سے مقدمے میں مفرور ملزمان تک رسائی کیلئے تفتیش کی جائے گی جبکہ نقیب قتل کیس کا حتمی چالان انسداددہشت گردی عدالت میں جمع ہوچکاہے۔

خیال رپے کہ سابق ایس ایچ اوامان اللہ مروت سمیت12ملزمان تاحال مفرور ہیں، عدالت نے تمام مفرور ملزمان کو گرفتار کرنے کے احکامات دیے تھے جبکہ مقدمے میں ڈی ایس پی قمراحمد سمیت10ملزمان کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے۔


مزید پڑھیں : راؤ انوار عدالت میں پیش، سپریم کورٹ کے حکم پر گرفتار کرلیا گیا


گذشتہ روز سابق ایس ایس پی ملیرراؤانوار کو سپریم کورٹ کے حکم پر گرفتارکیاگیاتھا اور نجی ایئرلائن کی پرواز کے ذریعےاسلام آباد سے کراچی لایا گیا، سندھ پولیس کی تفتیشی ٹیم راؤانوار کو اسلام آبادسے کراچی لائی۔

دوران سماعت راؤ انوار کے وکیل شمیم رحمٰن نے سابق ایس ایس پی ملیر کی حفاظتی ضمانت کی درخواست دائر کی تھی ، جسے سپریم کورٹ نے مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پہلے بھی حفاظتی ضمانت دی گئی تھی تاہم اب اسے مسترد کیا جاتا ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے راؤ انور کے بینک اکاؤنٹس کو بھی دوبارہ بحال کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ سابق ایس ایس پی ملیر کے بینک اکاؤنٹس بحال کر دیے جائیں تاکہ ان کے بچوں کی روزی روٹی بحال ہو سکے اور جو تنخواہ انہیں جاتی تھی وہ بھی انہیں ملنی چاہیے۔

سپریم کورٹ نے نقیب اللہ محسود کے والد اور ان کے چچا سے راؤ انوار کی زندگی کے لیے مشکلات پیدا نہ کرنے کے حوالے سے تحریری اقرار نامہ بھی طلب کرلیا۔ عدالتِ عظمیٰ نے حکم دیا کہ تحقیقات مکمل ہونے تک راؤ انوار کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل رہے گا۔

چیف جسٹس نے پولیس افسران پر مشتمل نئی جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ کیا، جس میں آفتاب پٹھان، ولی اللہ، ڈاکٹر رضوان اور آزاد ذوالفقار شامل ہیں اور نئی جے آئی ٹی کے سربراہ آفتاب پٹھان ہوں گے۔

واضح رہے 13 جنوری کو ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے شاہ لطیف ٹاؤن میں پولیس مقابلہ کا دعویٰ‌کیا تھا. ٹیم کا موقف تھا کہ خطرناک دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے اس کارروائی میں‌ پولیس نے جوابی فائرنگ کرتے ہوئے چار ملزمان کو ہلاک کیا تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں نوجوان نقیب اللہ بھی شامل تھا۔

البتہ سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم کے بعد اس واقعے کے خلاف عوامی تحریک شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں‌ پولیس مقابلے کی تحقیقات شروع ہوئیں، ایس ایس پی رائو انوار کو عہدے سے معطل کرکے مقابلہ کو جعلی قرار دے گیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے نقیب اللہ کے ماورائے عدالت قتل کا از خود نوٹس کیس مقرر کرتے ہوئے راؤ انوار کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کا حکم دیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں