site
stats
پاکستان

انصاف کے طلب گار نقیب کے اہل خانہ کراچی پہنچ گئے، پختون قومی جرگے میں شرکت

بیٹا کہتا تھا کہ اس کے مرنے پر پورا پاکستان روئے گا: والد نقیب اللہ

لاہور: مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے نقیب اللہ محسود کے بھائی اور والد انصاف کی تلاش میں‌ کراچی پہنچ گئے.

تفصیلات کے مطابق نقیب محسود کے اہل خانہ آج سخت سیکیورٹی میں ٹانک سے کراچی پہنچے اور سہراب گوٹھ پرپختون قومی جرگے میں شرکت کی. نقیب کے ورثا سابق ایس ایس پی ملیرراؤانوار اور مبینہ مقابلے میں شریک پولیس پارٹی کے خلاف مقدمےمیں مدعی بنیں گے.

پختون قومی جرگے میں محسود اور دیگر قبائلی افراد کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اس موقع پر نقیب کے والد نے کہا، بیٹا کہتا تھا کہ اس کے مرنے پر پورا پاکستان روئے گا، لوگوں کا احتجاج بیٹے کی بے گناہی گا ثبوت ہے۔

پولیس نے کیس کے گواہ نازک میرکو بھی سہراب گوٹھ سے گرفتار کر لیا ہے اور پوچھ گچھ  شروع کر دی ہے۔ یاد رہے کہ نقیب نےنازک میر ہی سے  دکان کرائے پرلینے کا معاہدہ کیا تھا۔

قبل ازیں‌ سہراب گوٹھ میں محسود قبائل اور علاقہ مکینوں نے نقیب اللہ محسود کی وفات پر اظہارتعزیت کے لیے کیمپ لگایا، جہاں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی، اس دوران اظہار تعزیت کے لیے آنے والوں کا بھی تانتا بندھا رہا۔

نقیب اللہ محسود کی ہلاکت، کیس کے ممکنہ اہم گواہ نازک میر سے تفتیش کا فیصلہ

واضح رہے 13 جنوری کو ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی سربراہی میں خطرناک ملزمان کی گرفتاری کے لیے شاہ لطیف ٹاؤن میں چھاپے کے لیے جانے والی پولیس پارٹی پر دہشت گردوں نے فائرنگ کردی تھی، پولیس نے جوابی فائرنگ کرتے ہوئے 4 دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کا دعویٰ کیا تھا، ہلاک ہونے والوں میں نوجوان نقیب اللہ بھی شامل تھا۔

نقیب اللہ کیس: راؤ انوار کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی تیاریاں، ایس ایس پی نے فون بند کردیے

نوجوان کی مبینہ ہلاکت پر سوشل میڈیا پر شور اٹھا اور مظاہرے شروع ہوگئے۔ بلاول بھٹو نے وزیرداخلہ سندھ کو واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا جس کے بعد ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں تفتیشی ٹیم نے ایس ایس پی ملیر سے انکوائری کی اور عہدے سے برطرف کردیا تھا۔

نقیب اللہ کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ مقتول کی الاآصف اسکوائر پر کپڑے کی دکان تھی، تین جنوری کو سادہ لباس میں ملبوس پولیس اہلکار اسے لے کر گئے اور تیرہ جنوری کو ایدھی سینٹر سہراب گوٹھ سے اس کی لاش ملی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

loading...

Most Popular

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top