نقیب اللہ قتل ازخود نوٹس کیس، راؤ انوار کا ایک اور خط سپریم کورٹ کو موصول
The news is by your side.

Advertisement

نقیب اللہ قتل کیس، راؤ انوار کا ایک اور خط سپریم کورٹ کو موصول

اسلام آباد : نقیب اللہ قتل ازخود نوٹس کیس میں راؤ انوار کا ایک اور خط سپریم کورٹ کوموصول ہوگیا،عدالت نے آئندہ سماعت پرڈی جی ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس بھی طلب کرلیا، چیف جسٹس نے ریماکس میں کہا کہ کیس میں کوئی پروگریس نہیں ہوئی، راؤانوار سے متعلق مقصد حاصل نہیں ہوسکا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں نقیب اللہ قتل ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی، راؤ انوار کا ایک اورخط سپریم کورٹ کومل گیا۔

چیف جسٹس نے بتایا کہ راؤانوار کا ایک اور خط ہمیں ملا ہے، خط میں ملزم نے بینک اکاؤنٹس کھولنے،اور میڈیا سے رابطے کی اجازت مانگی ہے۔

راؤ انوار کی لوکیشن سے متعلق ایم آئی،آئی ایس آئی رپورٹس عدالت میں پیش کی گئی، رپورٹ میں بتایا گیا کہ راؤ انوار کی گرفتاری کیلئے تمام اداروں نے میٹنگز کیں، ملزمان کے موبائل ڈیٹا کی رپورٹس کا جائزہ لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ملزمان کے قریبی رشتہ داروں کے موبائل نمبرز بھی ٹریس کئے، سندھ پولیس کو تمام سہولتیں فراہم کی گئیں، جس پر چیف جسٹس نے ریماکس دیئے کہ کیس میں کوئی پروگریس نہیں ہوئی، راؤانوار سے متعلق مقصد حاصل نہیں ہوسکا۔

آئی جی سندھ نے عدالت کو بتایا کہ گرفتاری کیلئے اقدامات کررہے ہیں، گرفتارملزمان کے خلاف چالان پیش کردیا، ملزم کی آخری لوکیشن لاہور آئی تھی، اس کے بعد نمبرز بند ہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا کہ ممکن ہے ملزم کو کوئی شیلٹر دے رہا ہو؟چیف جسٹس نے آئی جی سے سوال کیا کہ راؤ انوار ملک سے فرارہونے کی کوشش کررہا تھا، کیا اُسوقت کی سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہیں؟

آئی جی سندھ نے کہا کہ تمام فوٹیجز تفتیشی ٹیم کو فراہم کی ہیں،جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہم فوٹیجز دیکھ سکتےہیں،آئی جی سندھ نے کہا کہ درخواست ہے آپ فوٹیجز چیمبر میں دیکھیں۔

جس کے بعد عدالت نے آئندہ سماعت پر ڈی جی ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس بھی طلب کرتے ہوئے سماعت جمعہ تک ملتوی کردی جبکہ کیس کی آئندہ سماعت کراچی رجسٹری میں ہوگی۔


مزید پڑھیں : نقیب قتل کیس: سپریم کورٹ کا راؤ انوار کو گرفتار نہ کرنے کا حکم


یاد رہے گذشتہ ماہ 13 فروری کو سماعت میں سپریم کورٹ نے راؤ انوار کو گرفتار نہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے راؤ انوار کو حفاظتی ضمانت دیدی تھی۔

واضح رہے 13 جنوری کو ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے شاہ لطیف ٹاؤن میں پولیس مقابلہ کا دعویٰ‌کیا تھا. ٹیم کا موقف تھا کہ خطرناک دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے اس کارروائی میں‌ پولیس نے جوابی فائرنگ کرتے ہوئے چار ملزمان کو ہلاک کیا تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں نوجوان نقیب اللہ بھی شامل تھا۔

البتہ سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم کے بعد اس واقعے کے خلاف عوامی تحریک شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں‌ پولیس مقابلے کی تحقیقات شروع ہوئیں، ایس ایس پی رائو انوار کو عہدے سے معطل کرکے مقابلہ کو جعلی قرار دے گیا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں