The news is by your side.

Advertisement

اگر راؤ انورکو ہتھکڑیاں پہنا کر نہ لایا گیا تو پوراملک بند کردیں گے، نقیب اللہ کے اہلخانہ

کراچی : نقیب اللہ کے اہلخانہ نے راؤ نوار کی غیر حاضری پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا اگر راؤ انورکو ہتھکڑیاں پہنا کر نہ لایا گیا تو پورا ملک بند کردیں گے۔

تفصیلات کے مطابق نقیب محسود قتل کیس کی سماعت میں راؤ انوارکی عدم حاضری پر قبائلی عمائدین نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ واضح ہوگیا ہے، حکومت سندھ کیس پراثر انداز ہورہی ہے اور تاخیری حربے استعمال کئے جارہے ہیں۔

نقیب کیس کی پیروی کرنے والے قبائلی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اتنا فٹ افسراب ان فٹ کیسے ہوگیا؟ راؤ انوار کو ہتھکڑیاں پہنا کر لایا جائے، اگر راؤ انوار نہیں آیا تو پورا ملک بند کردیں گے۔

انہوں نے کہا کہ راؤ انوار تو بہادر تھا، اب حیلے بہانے بنارہا ہے،لیکن ہمیں امید ہےکہ سپریم کورٹ سے انصاف ملے گا۔ راؤ انوار سندھ حکومت کا بہادر بچہ بنارہا ہے تو یہ عمل انصاف کے خلاف ہوگا۔

اس سے قبل نقیب محسود قتل کیس کے مرکزی ملزم راؤانواربیمار ی کے باعث ریمانڈ ختم ہونے پرعدالت میں پیش نہ ہوئے، راؤ انوار کی عدم حاضری پر عدالت نے اظہاربرہمی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پرپیش کرنےکاحکم دیا تھا۔


مزید پڑھیں : نقیب محسودکیس، راؤانوار بیمار، عدالت میں پیش نہ ہوئے


جیل حکام نے دوران سماعت میڈیکل سرٹیفکیٹ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ راؤانوار کو بیماری کے سبب عدالت میں پیش نہیں کرسکتے، راؤانوار علیل ہیں، کل ڈاکٹروں نے چیک اپ کیا ہے۔

یاد رہے کہ پولیس نے 21 اپریل کو راؤ انوار کا 30 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر انہیں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا تھا جہاں عدالت نے انہیں 2 مئی تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔

خیال رہے کہ نقیب قتل کی تفتیش کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی نے راؤ انوار کو نقیب اللہ کے ماورائے عدالت قتل کا ذمہ دار ٹھہرا یا،  رپورٹ میں‌ موقف اختیار کیا گیا کہ راؤ انوار اور ان کی ٹیم نے شواہد ضائع کیے، ماورائے عدالت قتل چھپانے کے لئے میڈیا پر جھوٹ بولا گیا۔

رپورٹ میں‌ کہا گیا تھاکہ جیوفینسنگ اور دیگر شہادتوں سے راؤ انوار کی واقعے کے وقت موجودگی ثابت ہوتی ہے، راؤ انوار نے تفتیش کے دوران ٹال مٹول سے کام لیا۔

واضح رہے کہ 13 جنوری کو سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں پولیس مقابلہ کا دعویٰ‌ کیا تھا۔

ٹیم کا موقف تھا کہ خطرناک دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے اس کارروائی میں‌ پولیس نے جوابی فائرنگ کرتے ہوئے چار ملزمان کو ہلاک کیا تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں نوجوان نقیب اللہ بھی شامل تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں