The news is by your side.

Advertisement

نقیب اللہ محسود کی ہلاکت، کیس کے ممکنہ اہم گواہ نازک میر سے تفتیش کا فیصلہ

کراچی:نقیب اللہ محسود کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت پر کیس کے ممکنہ اہم گواہ نازک میرسے تفتیش کا فیصلہ کیا گیا ہے، نازک میرآج ایس پی انویسٹی گیشن کوبیان ریکارڈ کرائیں گا۔

تفصیلات کے مطابق نقیب اللہ محسود کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کے معاملے پر کیس کےممکنہ اہم گواہ نازک میر سے تفتیش کا فیصلہ کیا گیا ہے ، نازک میر کو سہراب گوٹھ سے حراست میں لیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نازک میرسے نقیب اللہ سےمتعلق سہراب گوٹھ پولیس نے پوچھ گچھ کی، نازک میرآج ایس پی انویسٹی گیشن کوبیان ریکارڈکرائیں گا جبکہ نازک میر کے مزید2ساتھیوں سے بھی پوچھ گچھ کی گئی۔

ذرائع کے مطابق نقیب اللہ نے نازک میرسے ہی دکان کرائے پر لینے کا معاہدہ کیا تھا، نازک میر کی اطلاع پر ضلع ملیر پولیس نے مقتول کو حراست میں لیا تھا۔

خیال رہے کہ نازک میر ایس ایس پی راوٴ انوار کیلئے بیٹر کے طور پر کام کرتا تھا،نازک میر کو ماضی میں رینجرز نے گرفتار کرکے مبینہ ٹاوٴن پولیس کے حوالے بھی کیا تھا۔


مزید پڑھیں :  نقیب اللہ کی ہلاکت، ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو عہدےسےفارغ کردیاگیا


یاد رہے کہ جعلی مقابلے میں نقیب اللہ کی ہلاکت پر ایس ایس پی ملیر راؤ انوار گزشتہ روز عہدے سے ہٹا دیا گیا جبکہ راؤانوارکانام ای سی ایل میں ڈالنےکافیصلہ کیاہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ راؤ انوارکے خلاف انکوائری مکمل ہونے پر مزید کارروائی ہوگی، تحقیقاتی کمیٹی کو مقتول نقیب اللہ کے خلاف شواہد نہیں ملے، راؤ انوار کی جانب فراہم کیا گیا نقیب کا کرائم ریکارڈ کسی اور کا ہے جبکہ جیل میں قید دہشت گرد قاری احسان اللہ نے بھی نقیب کو پہچانے سے انکار کردیا ہے ۔

نقیب اللہ کے حوالے سے ایس ایس پی ملیر راؤ انور نے دعویٰ کیا تھا کہ دہشتگردی کی درجنوں وارداتوں میں ملوث نقیب اللہ کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تھا اور کراچی میں نیٹ ورک چلا رہا تھا جبکہ 2004 سے 2009 تک بیت اللہ محسود کا گن مین رہا جبکہ دہشتگری کی کئی واردتوں سمیت ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل توڑنےمیں بھی ملوث تھا۔

واضح رہے 13 جنوری کو ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی سربراہی میں خطرناک ملزمان کی گرفتاری کے لیے شاہ لطیف ٹاؤن جانے والی پولیس پارٹی پر دہشت گردوں نے فائرنگ کردی تھی جس پر پولیس نے جوابی فائرنگ کرتے ہوئے 4 دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا، ہلاک ہونے والوں میں نوجوان نقیب اللہ بھی شامل تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں