The news is by your side.

Advertisement

بھارتی انتہا پسند بے قابو، طالب علم رہنما کی زبان کاٹنے پرانعام مقرر

نیو دہلی : بھارت میں انتہاپسندی عروج پر ہے، بی جے پی یوتھ ونگ کے رہنما نے نریندرمودی کیخلاف بیان پر طالب علم رہنما کنہیا کمارکی زبان کاٹنے پر پانچ لاکھ روپے انعام مقرر کردیا۔

دوسری جانب بھارتی حکومت نے امریکی مذہبی آزادی کمیشن کوویزہ دینے سے انکارکردیا۔ بھارت میں انتہاپسندوں کا جنون دن بدن مزید بے لگام ہوتا جارہا ہے۔

بی جے پی کے غنڈے سچ بولنے والے اپنے ہی لوگوں کی جان کے درپے ہوگئے۔ بی جے یوتھ ونگ کے رہنما کلدیپ ورشنے نے اعلان کیا ہے کہ دہلی یونیورسٹی یونین کے صدرکنہیا کمارکی زبان جو شخص کاٹے گا اسے پانچ لاکھ روپے انعام دیا جائے گا۔

بی جے پی رہنما کا کہنا ہے کہ کنہیا کمار نے اپنی تقریرمیں نریندرمودی کی بے عزتی کی جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ کنہیا کمارکوافضل گروکے حق میں پروگرام کرنے پرگرفتارکیا گیا تھا اوروہ جمعرات کورہا ہوئے تھے۔

مودی سرکاربھی انتہا پسندی میں اپنے چیلوں سے کچھ کم نہیں۔ مذہبی آزادی کا بدترین ریکارڈ رکھنے والی بھارت سرکارنے امریکا کے سرکاری کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے وفد کوویزا دینے سے ہی انکارکردیا۔

وفد کے چئیرمین نے مودی سرکارکے فیصلے کومایوس کن قراردیتے ہوئے کہا کہ وفد اس سے پہلے پاکستان،سعودی عرب سمیت دنیا کے مختلف ملکوں کا دورہ کرچکا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں