The news is by your side.

Advertisement

ٹریکٹر ریلی : ’’مودی سرکار نے ایک اور کسان کی جان لے لی‘‘

نئی دہلی : مودی حکومت کے زرعی قوانین کے خلاف نکالی جانے والی کسان ٹریکٹر ریلی کے شرکا پر بھارتی پولیس نے دھاوا بول دیا، لاٹھی چارج اور  آنسو گیس کا شیل لگنے سے ایک کسان ہلاک ہوگیا۔

کسان ٹریکٹر ریلی کے شرکا جب آئی ٹی او پہنچے تو اس دوران پولیس نے مزاحمت کی، پولیس نے ریلی کے شرکا پر لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے داغے۔ جھڑپ کے دوران اتراکھنڈ کا رہائشی ایک کسان موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مظاہرے کے دوران مرنے والے کسان کا نام نونیت تھا۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا ہے کہ نونیت کی موت پولیس کی گولی لگنے سے ہوئی ہے۔

سنگھو بارڈر سے نکلنے والی کسانوں کی ریلی اور پولیس کے درمیان مکربا چوک پر تصاد ہوا۔ کسانوں کا ٹریکٹر مارچ مکربا چوک سے کنجھاولا جانے والا تھا لیکن عین موقع پر کسانوں نے اپنا روٹ بدل دیا۔ اس دوران کسانوں اور پولیس کے درمیان پھر زور دار تصادم ہوا، جس میں کئی کسانوں کے ساتھ دیگر پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ نئی دہلی کی سرحد پر کئی ماہ سے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے کسان آج بھارتی یوم جمہوریہ کے موقع پر دارالحکومت نئی دہلی داخل ہونے کے لئے تمام رکاوٹوں کو توڑ ڈالا۔

پولیس نے کسانوں کو دہلی میں داخل ہونے سے روکنے کی بہت کوششیں کیں جو بے سود ثابت ہوئیں، دارالحکومت میں داخلے کے موقع پر غازی پور بارڈر پر پولیس نے کسانوں پر لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے بھی داغے تاہم پولیس کسانوں کی ہمت توڑنے میں ناکام رہی۔

مزید پڑھیں : سکھ کسانوں نے نئی دہلی ،لال قلعہ پر مذہبی جھنڈا لہرادیا

کسانوں نے اپنے ہاتھوں میں اپنی تنظیم کے جھنڈے تھامے ہوئے تھے، ان میں سے ایک کسان نے آگے بڑھتے ہوئے لال قلعہ پر لگے کھمبے پر اپنا جھنڈا لہرا دیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں