The news is by your side.

Advertisement

ناسا نے ماضی میں پوشیدہ زمین کی طرح کا ’سیارہ‘ دریافت کرلیا

ناسا نے ماضی میں چھپا زمین کی طرح کا ایک اور سیارہ دریافت کرلیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق زمین کے سائز کے ایکوپلانٹ اپنے ستارے کے رہائش پذیر زون کے گرد چکر لگاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ درجہ حرارت اتنا ہلکا ہوتا ہے کسی چٹٹنانے والے سیارے کو مائع پانی کی سہولت فراہم کرنے کی اجازت مل سکتی ہے۔

دور دراز کی دنیا جیسے سیارے کو اس وقت دریافت کیا گیا جب کیپلر خلائی دوربین سے آنے والے پرانے مشاہدے کو سائنسدان جانچ رہے تھے جس نے 2018 میں اس کا کام روک دیا تھا لیکن اس سے قبل ستاروں سے ایک بہت بڑا اعدادوشمار فراہم کیا تھا۔

ایک سیارے کو پہلے ایک کمپیوٹر الگورتھم کے ذریعہ خارج کردیا گیا تھا جس نے اسے غلط شناخت کیا تھا لیکن نئی تحقیق کے حصے کے طور پر سائنسدانوں نے کیپلر کے اعدادوشمار میں موجود معلومات پر ایک اور نظر ڈالنے کے قابل ہوئے اور یہ دیکھا کہ واقعتاً یہ ایک پہلے سے دریافت شدہ سیارہ تھا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے سائز اور تخمینے والے درجہ حرارت کے لحاظ سے کیپلر اسپیس دوربین کے ذریعہ دریافت کردہ کسی بھی سیارے کی زمین سے سب سے زیادہ ملتا جلتا ہے، اگرچہ دوسرے ایکوپلانٹ سائز یا درجہ حرارت میں زیادہ ملتے جلتے ہوسکتے ہیں لیکن ایسی دنیا کو کوئی دریافت نہیں کیا جاسکا جس میں ان دو خصوصیات کا مجموعہ ہو اور ساتھ ہی رہائش پذیر زون میں بھی ہو۔

واضح رہے کہ کرہ ارض ہم سے 300 نوری سال ہے، جو ہماری زمین سے تھوڑا سا بڑا ہے اور ہمیں اپنے سورج سے ملنے والی روشنی کا تقریباً 75 فیصد حاصل کرتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ درجہ حرارت بھی ایسا ہی ہوسکتا ہے جو زندگی کے لیے درکار شرائط کی بھی اجازت دیتا ہے۔

تاہم سائنسدانوں کو تشویش لاحق ہے کہ اس کا ستارہ سرخ ہونا ہے، ہمارے اپنے زیادہ مستحکم سورج کے برعکس، اس طرح کے ستارے تاریخی شعلوں کو پھینکنے کے لیے جانے جاتے ہیں جو کرہ ارض پر گرفت سے قبل کسی بھی ممکنہ زندگی کو تباہ کرسکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں