اتوار, اگست 9, 2026
اشتہار

ناسا نے طاقت ور اے آئی اسپیس چپ تیار کر لی، خلائی جہاز خود سوچ سکیں گے

اشتہار

حیرت انگیز

کیلیفورنیا (06 جولائی 2026): ناسا نے ایک ایسی طاقت ور اے آئی اسپیس چپ تیار کر لی ہے، جس کی مدد سے خلائی جہاز کو خود سوچنے کی صلاحیت مل جائے گی، اور مشنز کے دوران گہرے خلا میں کہیں زیادہ خودمختاری سے کام کر سکیں گے۔

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا نے ایک نئی اور انتہائی طاقت ور کمپیوٹر چِپ تیار کر لی ہے، جو مستقبل میں سخت خلائی ماحول اور ریڈی ایشن میں بھی مؤثر طریقے سے کام کرے گی، جس سے مریخ اور گہرے خلا کے مشنز بہتر انداز میں انجام دیے جا سکیں گے۔

ناسا کی یہ نئی نسل کی خلائی کمپیوٹر چپ آزمائش کے مراحل میں ہے، ریڈی ایشن سے محفوظ یہ پروسیسر موجودہ خلائی کمپیوٹرز کے مقابلے میں ’’سینکڑوں گنا زیادہ کارکردگی‘‘ دکھا رہا ہے۔ اِس پر ایسے سخت ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں جو خلا کے انتہائی دشوار ماحول کی نقل ہیں۔


اس ٹیکنالوجی کی مدد سے AI پر مبنی خلائی جہاز، تیز سائنسی دریافتوں، اور چاند اور مریخ کے لیے کہیں زیادہ ذہین مشنز کو ممکن بنایا جا سکے گا۔ ناسا کے اس طاقت ور نئے کمپیوٹر چپ کا مقصد مستقبل کے خلائی جہازوں کی ذہانت اور کارکردگی میں نمایاں اضافہ کرنا ہے۔


ناسا کا یہ ’’ہائی پرفارمنس اسپیس فلائٹ کمپیوٹنگ (HPSC)‘‘ منصوبہ دراصل خلائی تحقیق میں استعمال ہونے والے خلائی جہازوں کی کمپیوٹنگ صلاحیت بڑھانے پر مرکوز ہے۔ موجودہ مشنز میں پرانے پروسیسرز استعمال کیے جاتے ہیں کیوں کہ وہ خلا کے سخت حالات میں کام کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہ چپس قابلِ اعتماد ہیں، لیکن یہ زیادہ جدید اور پیچیدہ مشنز کے لیے مطلوبہ کارکردگی فراہم نہیں کر سکتیں۔

ادارے کے مطابق مستقبل کے خودمختار خلائی جہازوں، جہاز کے اندر تیز سائنسی تجزیے، اور چاند و مریخ کے مشنز میں خلا بازوں کی معاونت کے لیے زیادہ جدید اور طاقت ور پروسیسرز انتہائی ضروری ہیں۔

جے پی ایل میں ہائی پرفارمنس اسپیس کمپیوٹنگ پروجیکٹ کے منیجر جم بٹلر کے مطابق اس چپ پر کیلیفورنیا کے جنوبی حصے میں واقع ناسا کی ’جیٹ پروپلشن لیبارٹری‘ کے انجینئرز اس وقت مختلف اقسام کے ٹیسٹ کر رہے ہیں جو سخت خلائی حالات کی مکمل نقل پر مبنی ہیں۔


سائنس دان پہلی بار مصنوعی خلیہ تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے


یہ ایک جدید ترین خلائی فلائٹ کمپیوٹنگ سسٹم ہے جو 2040 اور اس کے بعد تک ناسا کے مشنز کی کمپیوٹنگ کارکردگی، توانائی کے مؤثر استعمال، خرابی برداشت کرنے کی صلاحیت اور رابطے کی ضروریات پوری کر سکے گا۔ کیوں کہ خلائی ماحول میں موجود تابکاری (ریڈی ایشن) الیکٹرانک پرزوں کو طویل المدت نقصان پہنچا سکتی ہے اور ایسی غلطیاں پیدا کر سکتی ہے جو کمپیوٹنگ کے عمل میں رکاوٹ بنتی ہیں۔

زمین کے مدار سے باہر جانے والے مشنز میں جہاز کے اندر طاقت ور کمپیوٹنگ وسائل کی ضرورت بھی زیادہ ہوتی ہے، کیوں کہ زمین اور خلائی جہاز کے درمیان رابطے میں وقت کا خاصا وقفہ ہوتا ہے۔ اسی تاخیر کی وجہ سے خلائی مشنز کی بہت سی سرگرمیوں کو خودکار اور رئیل ٹائم میں خلائی جہاز کے اندر ہی انجام دینا ضروری ہوتا ہے، تاکہ زمین پر موجود کنٹرولرز کی مدد کے بغیر کام جاری رہ سکے۔

ان خودکار سرگرمیوں کے لیے خلائی ماحول میں مختلف قسم کے کمپیوٹنگ کام انجام دینے پڑتے ہیں، جن میں جدید خودکار نظام، مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، تصاویر اور سگنلز کی پراسیسنگ، ڈیٹا کے بہاؤ کا انتظام، اشیا کی شناخت اور درجہ بندی شامل ہیں۔ ان تمام کاموں کو مؤثر طریقے سے انجام دینے کے لیے جہاز کے اندر موجود کمپیوٹنگ ٹیکنالوجی میں نمایاں ترقی ناگزیر ہے، تاکہ مستقبل کے زیادہ طویل اور پیچیدہ خلائی مشنز کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔

  • ’HPSC‘ ایک جدید سسٹم آن اے چپ (System-on-a-Chip) ہے، جو موجودہ خلائی پروسیسرز کے مقابلے میں 100 گنا سے بھی زیادہ کمپیوٹنگ صلاحیت فراہم کرتا ہے۔
  • یہ منصوبہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیٹا فلو پراسیسنگ اور قابلِ توسیع ویکٹر کمپیوٹنگ کی صلاحیت فراہم کرے گا، جو مستقبل کے جدید خلائی نظاموں کی سائنسی تحقیق اور خودکار آپریشنز کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
  • خلا میں برقی توانائی ایک نہایت قیمتی وسیلہ ہوتی ہے، اسی لیے چِپ کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ بجلی کے استعمال اور کمپیوٹنگ کارکردگی کے درمیان لچک دار توازن قائم رکھ سکے۔ اس کی بدولت مختلف افعال کو ضرورت نہ ہونے پر مکمل طور پر بند یا کم توانائی والے موڈ میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔
  • اس منصوبے کو خاص طور پر خطرناک خلائی ماحول میں کام کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس میں ایسی خصوصیات شامل ہیں جو سخت ترین خلائی حالات میں بھی قابلِ اعتماد نتائج فراہم کرنے کو یقینی بناتی ہیں۔
  • یہ صلاحیت روبوٹک لینڈنگ، دوسرے سیاروں پر پرواز، گہرے خلا میں موجود خلا بازوں کی معاونت، یا نظامِ شمسی کے بیرونی حصوں میں موجود چھوٹے اجرامِ فلکی کے قریب مشنز جیسے اہم کاموں کی کامیاب انجام دہی کو ممکن بناتی ہے۔
  • چپ میں خرابی برداشت کرنے اور غلطیوں کی خودکار اصلاح کی جدید خصوصیات شامل ہیں، تاکہ خلا میں تابکاری اور انتہائی درجہ حرارت کے باوجود الیکٹرانک نظام قابلِ اعتماد انداز میں کام کرتے رہیں۔
  • یہ پروسیسر خلائی جہاز کے آلات اور سینسرز سے حاصل ہونے والے وسیع مقدار میں ڈیٹا کو حقیقی وقت میں پروسیس کرتا ہے، پیچیدہ حساب کتاب انجام دیتا ہے اور فوری تجزیہ فراہم کرتا ہے۔
  • جدید ’ایتھرنیٹ‘ نیٹ ورکنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے یہ چپ مختلف سینسرز اور دیگر آلات سے بہ آسانی منسلک ہو سکتا ہے۔ اسی ٹیکنالوجی کے ذریعے متعدد پروسیسرز کو آپس میں جوڑ کر مزید طاقتور اور وسیع کمپیوٹنگ نظام بھی تشکیل دیے جا سکتے ہیں۔
  • اس چپ کا بنیادی ڈیزائن ایک ’اوپن سورس، انڈسٹری اسٹینڈرڈ انسٹرکشن سیٹ آرکیٹیکچر’ پر مبنی ہے، جس میں خرابی برداشت کرنے کی صلاحیت، تابکاری سے تحفظ، مکمل سیکیورٹی نظام اور اسے چلانے کے لیے درکار تمام سافٹ ویئر شامل ہیں۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں