The news is by your side.

Advertisement

چاند اور مریخ کی خلائی تسخیر کے بعد ناسا کا اگلا ہدف کیا ہے؟ جانئے

ناسا ایک بار پھر دنیا کے چھپے رازوں کا کھوج لگانے کے لئے تیار ہے، اس بار اس کا مشن کسی نئے سیارے کو دریافت کرنا نہیں بلکہ زمین کے قریب ترین سیاروں کی ماحولیات اور جغرافیائی تاریخ کا مطالعہ کرنا ہے۔

امریکی خلائی ادارے کے ڈسکوری پروگرام کے تحت زمین کے قریب ترین سیاروں کی ماحولیات اور جغرافیائی تاریخ کا مطالعہ کرنے کے لئے دو مشن روانہ ہونگے، جن کی روانگی دوہزار اٹھائیس اور تیس میں متوقع ہے۔

رپورٹ کے مطابق دونوں مشن پر پچاس کروڑ ڈالر لاگت آئے گی، یہ تحقیقات ان چار تصوراتی مشن میں سے ہیں جو ناسا نے فروری دوہزار بیس میں ایجنسی کے ڈسکوری دو ہزار انیس مقابلے میں منتخب کیے تھے، دونوں مشنوں کا انتخاب ان کی سائنسی اور ترقیاتی منصوبوں کی بنا پر کیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق حتمی اعلان کے بعد اب پروجیکٹ ٹیمیں اپنی ضروریات ، ڈیزائن اور ترقیاتی منصوبوں کو حتمی شکل دینے کے لئے کام کریں گی،جس کے لیے ناسا نے ہر مشن کے لیے 500 ملین ڈالرز کی رقم مختص کی ہے۔

پہلا مشن جسے ‘ڈاونچی پلَس کا نام دیا گیا ہے، یہ نوبل گیسوں ، کیمسٹری اور ماحول سے متعلق تحقیق کرنے کے ساتھ سیارے پر پانی کے اثرات کو بھی کھوجنے کی کوشش کرے گا، 1978 کے بعد وینس کے ماحول کے لئے امریکا کی جانب سے یہ پہلا مشن ہوگا۔

دوسرے مشن کا نام ‘ویریتاس‘ رکھا گیا ہے، جو سیارے اور اس کی سطح کی جغرافیہ اور ٹپوگرافی کا مشاہدہ کرنے کے ساتھ اس کا نقشہ تیار کرے گا کہ سیارے نے زمین سے اتنی مختلف ترقی کیسے کی؟

واضح رہے کہ ناسا کا مریخ مشن بھی کامیابی سے جاری ہے، جس میں سات فٹ کا روبوٹک بازو مریخ کی بنجر زمین کو چیک کر رہا ہے، پرسیویرینس کا مشن مریخ میں موجود گڑھے کا تجزیہ کرنا ہے تاکہ ماضی میں زندگی کی موجودگی کے شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔ اگلے دو سال میں یہ روور 15 کلومیٹر کا سفر کرے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں