جمعرات, اپریل 16, 2026
اشتہار

بغدادی قاعدہ پڑھانے والے استاد کلّن خان اور لیلیٰ مجنوں کا عرس

اشتہار

حیرت انگیز

نہ جانے کیا بات ہے کہ استاد کلّن خان کو دیکھ کر مجھے وہ مکتب یاد آجاتا تھا جہاں لیلیٰ مجنوں پڑھا کرتے تھے۔ ویسے بھی استاد پر کبھی کبھی یہ شبہ ہوتا کہ جیسے پچھلے جنم میں یہی لیلیٰ مجنوں کو پڑھایا کرتے ہوں گے۔ یوں بھی استاد اٹھتے بیٹھتے لیلیٰ مجنوں کا اسی طرح ذکر کرتے جیسے اس زمانے کے استاد اپنے ہونہار یا شریر شاگردوں کا ذکر کیا کرتے تھے۔

قصّوں میں انھیں لیلیٰ مجنوں کا قصّہ بہت پسند تھا۔ شہر میں جب کوئی نوٹنکی لیلیٰ مجنوں کا کھیل دکھاتی تو استاد جب تک یہ کھیل چلتا رہتا بلا ناغہ اسے دیکھتے اور خوش ہوتے۔

جب میں نے استاد کو سب سے پہلے دیکھا تو ساٹھ پینسٹھ کے ہوں گے۔ لانبا قد، دبلے پتلے۔ داڑھی مونچھوں پر پہلے خضاب اور پھر دسمہ اور مہندی لگانے لگے۔ استاد کا چہرہ لمبوترا تھا۔ سر پر رومی ٹوپی، جسم پر شیروانی یا ڈبل بریسٹ کا کوٹ۔ کبھی بغیر کریز کی پتلون پہنتے اور کبھی پاجامہ۔ پاؤں میں پمپ۔ صورت شکل سے اکبر الہ آبادی کے چھوٹے بھائی معلوم ہوتے تھے۔ استاد بغدادی قاعدہ پڑھاتے تھے۔ میں نے انہیں بغدادی قاعدہ سے آگے پڑھاتے نہ سنا اور نہ دیکھا، جیسے ان کا مبلغ علم بغدادی قاعدے تک محدود تھا۔ اس کے ایک شاگرد کا کہنا تھا کہ علم کے معاملے میں ہمارے استاد کی تعلیم بغدادی قاعدے تک محدود ہے۔ وہ آدھے گھنٹے سے زیادہ نہیں پڑھایا کرتے تھے۔ اور اس آدھے گھنٹے میں وہ اُونگھتے زیادہ تھے، پڑھاتے کم تھے۔ اور پھر اونگھنے اور پڑھانے کے لیے وہ دوسرے گھر میں پہنچ جاتے۔ اور یوں آواز لگاتے: میاں سعید الرحمن خان- آؤ میاں آؤ، استاد آئے ہیں۔ اللہ خوش رکھے۔

استاد کو ہر گھر سے دو روپے ماہانہ ملتے۔ اور یوں دس بیس روپے ماہانہ ہو جاتے۔ سستا سماں تھا۔ اتنے پیسوں میں اچھی خاصی گزر ہو جاتی۔

استاد سال میں ایک مرتبہ لیلیٰ مجنوں کا عرس بھی کروایا کرتے۔ وہ اس عرس کا بڑے پیمانے پر اہتمام کرتے۔ پلاؤ زردہ کی دیگیں چڑھائی جاتیں۔ دو دن تک قوالی ہوتی اور آخر میں فاتحہ۔ ایک صاحب نے بتایا کہ جب نوٹنکی میں استاد لیلیٰ مجنوں کا کھیل دیکھتے تو اپنے تاثرات کا بھی اظہار کرتے جاتے۔ کبھی روتے، کبھی سسکیاں بھرتے، جب مجنوں گاتا تو استاد بھی اس کی آواز میں آواز ملاتے، اور کبھی لیلیٰ سے یہ کہتے، صبر کر میری بچّی صبر کر، اور کبھی مجنوں سے کہتے برداشت سے کام لے میری جان۔ اور پھر رونے لگتے۔

ایک مرتبہ لیلیٰ کی ماں کا کردار جو خاتون ادا کر رہی تھیں، انھوں نے استاد کو ڈانٹ کر کہا۔ "استاد صاحب خاموش رہیے۔ پہلے تو بچّوں کو بگاڑا اور اب ہمدردی کرنے بیٹھ گئے۔” تو اس پر پبلک بگڑ گئی اور کمپنی کے منیجر نے آکر استاد سے معافی مانگی۔

پھر ایک دن سردی کے موسم میں ریلوے روڈ پر ایک لاش پائی گئی۔ اس لاش کے ایک طرف چھتری تھی اور دوسری طرف ایک چھڑی۔ لاش کے چہرے پر کوئی کمبل ڈال گیا تھا۔ ایک راہ گیر نے لاش کے چہرے سے کمبل اٹھا کر دیکھا تو یہ استاد کلّن خان کی لاش تھی۔ سنا ہے قریب کی بستی سے لیلیٰ مجنوں کا کھیل دیکھ کر آ رہے تھے اور راستے میں موت کے فرشتے نے انھیں اچک لیا۔ اور لیلیٰ مجنوں کے پاس پہنچا دیا۔ چناں چہ اُس بستی میں ہر برس مرحوم کلّن خان کے مزار پر لیلٰی مجنوں کا عرس منایا جاتا ہے اور بہت سے لوگ مرحوم کو لیلیٰ مجنوں کا استاد سمجھ کر ان کی قبر پر آکر فاتحہ پڑھتے ہیں۔

(مقبول فکاہیہ نگار اور مصنّف نصر اللہ خان کی شخصی خاکوں کی کتاب "کیا قافلہ جاتا ہے” سے ایک اقتباس)

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں