The news is by your side.

Advertisement

پاکستانی فنکاروں کو دھمکیاں، قابل مذمت ہیں، نصیر الدین شاہ

ممبئی: بالی ووڈ انڈسٹری کے مایہ ناز اداکار نصیر الدین شاہ نے کہا ہے کہ پاک بھارت کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات تاحال جاری ہیں مگر انڈیا میں پاکستانی فنکاروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے جو تکلیف دہ بات ہے۔

تفصیلات کے مطابق فلمی انڈسٹری میں اپنی محنت سے مقام حاصل کرنے والے اداکار نصیر الدین شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی انتہاء پسندوں کی جانب سے فلم سازوں اور سینما مالکان کو دھمکیاں دینے اور فلم کی تشہیر روکنے کا عمل قابلِ مذمت ہے۔

انہوں نے بھارتی ہندو انتہاء پسند تنظیم کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’پاکستانی فنکاروں کو دی جانے والی دھمکیاں قابل مذمت ہیں، انتہاء پسندوں کے لیے فنکار ایک آسان ہدف ہے اس لیے وہ ہر بار ان ہی کو نشانہ بناتے ہیں۔

پڑھیں:  فلم اے دل ہے مشکل کی ریلیز، بھارتی انتہا پسندوں نے 5 کروڑ مانگ لیے

 ایک سوال کے جواب میں نصیر الدین شاہ نے کہا کہ ’’پاک بھارت کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات منقطع ہوئے اور نہ ہی ایک دوسرے کے لیے سرحدیں بند کی گئیں مگر پھر بھی انتہاء پسندوں کی جانب سے پاکستانی فنکاروں کو دھمکیاں دی گئیں اور فلموں کی ریلیز روکی گئی جو میرے لیے تکلیف دہ بات ہے‘‘۔

مزید پڑھیں: پاکستانی فنکاروں پر پابندی اسکول کے بچوں کا مذاق ہے، پوجا بھٹ

انہوں نے مہارشٹرا کی ہندو انتہاء پسند تنظیم کی جانب سے کرن جوہر کی فلم کی تشہیر کی مشروط اجازت دینے پر مقامی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور فلم کی تشہیر کے حمایت بھی کی۔ نصیر الدین شاہ نے بھارتی وزیر اعظم کو کہا کہ وہ ملک میں تعلیم اور دیگر عوامی مسائل حل کرنے کے لیے اقدامات کریں نہ ہی جنگی جنون میں مبتلاء ہوں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں